مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے حکام کا دعویٰ : بنگلہ دیشی پاسپورٹ رکھنے والے 14 ووٹر پائے گئے
کولکاتا، 5 جنوری (ہ س)۔ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی جاری خصوصی نظر ثانی مہم (ایس آئی آر ) پر مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے کم از کم 14 ووٹرز کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے جن کے پاس ہندوستانی ووٹر کارڈ اور بنگلہ دیشی پاسپورٹ ہیں۔ سرکاری
مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے حکام کا دعویٰ : بنگلہ دیشی پاسپورٹ رکھنے والے 14 ووٹر پائے گئے


کولکاتا، 5 جنوری (ہ س)۔ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی جاری خصوصی نظر ثانی مہم (ایس آئی آر ) پر مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے کم از کم 14 ووٹرز کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے جن کے پاس ہندوستانی ووٹر کارڈ اور بنگلہ دیشی پاسپورٹ ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کو ان پٹ موصول ہوا کہ کچھ ووٹر اصل میں بنگلہ دیش سے ہیں، جو درست ویزوں پر ہندوستان میں داخل ہوئے ہیں لیکن اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد واپس نہیں لوٹ رہے ہیں۔ اس شک کی بنیاد پر، کولکاتا میں غیر ملکیوں کے علاقائی رجسٹریشن آفس سے تصدیق کی گئی۔

غیر ملکیوں کے علاقائی رجسٹریشن آفس نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ تمام 14 افراد کے پاس بنگلہ دیشی پاسپورٹ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد درست ویزوں پر مغربی بنگال میں داخل ہوئے لیکن اپنے ویزوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد بنگلہ دیش واپس نہیں لوٹے۔ ان پر الزام ہے کہ بعد میں انہوں نے ہندوستانی شناختی دستاویزات حاصل کیں اور اپنے نام ووٹر لسٹوں میں درج کرلئے۔

ان نتائج کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے سفارش کی ہے کہ ان 14 افراد کے نام حتمی ووٹر لسٹ سے نکال دیے جائیں۔ حتمی ووٹر لسٹ 14 فروری کو شائع ہونے والی ہے۔

یہ معاملے شمالی 24 پرگنہ، ندیہ اور مشرقی مدنی پور اضلاع میں پیش آئے ہیں۔ یہ علاقے بنگلہ دیش کی سرحد سے قریب ہونے کی وجہ سے سیکورٹی اور انتخابی نقطہ نظر سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اضلاع پہلے ہی غیر قانونی دراندازی اور جعلی دستاویزات کے حوالے سے سخت نگرانی میں ہیں۔

مغربی بنگال پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تحقیقات نے غیر قانونی تارکین وطن کو ہندوستانی نظام میں ضم کرنے کے لیے ایک منظم طریقہ کار کا انکشاف کیا ہے۔

تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق انہیں پہلے ہندوستان بنگلہ دیش سرحد کے ساتھ واقع دیہات میں پناہ دی گئی۔ اس کے بعد مقامی سطح پر ملی بھگت سے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ اور راشن کارڈ بنائے گئے۔ ان دستاویزات کا استعمال آدھار کارڈ اور پین کارڈ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ان دستاویزات کو بعد میں ووٹر شناختی کارڈ اور بعض صورتوں میں ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کثیرجہتی عمل کے ذریعے بہت سے درانداز انتخابی نظام کا حصہ بن گئے، جو داخلی سلامتی اور جمہوری عمل کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande