گجرات کے گِر علاقے میں محکمہ جنگلات کے اہلکارکی شیرنی کوبیہوش کرنے والا انجکشن لگنے سے موت
جوناگڑھ، 5 جنوری (ہ س)۔ گجرات کے گِر علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔شیرنی کو بے ہوش کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ٹرانکوئلائزر گن سے چلایا گیا انجکشن ایک ساتھی فاریسٹ آفیسر کو لگ گیا ، جس کے نتیجے میں پیر کو اس کی موت ہوگئی۔
Tragic-accident-in-Gir-Gujarat


جوناگڑھ، 5 جنوری (ہ س)۔ گجرات کے گِر علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔شیرنی کو بے ہوش کرنے کے لیے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ٹرانکوئلائزر گن سے چلایا گیا انجکشن ایک ساتھی فاریسٹ آفیسر کو لگ گیا ، جس کے نتیجے میں پیر کو اس کی موت ہوگئی۔اس سے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

یہ واقعہ اتوار کو ویساودر کے نانی مونپری گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب محکمہ جنگلات کی ٹیم ایک آدم خور شیرنی کو پکڑنے گئی جس نے ایک معصوم بچے کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ گر کی تاریخ میں اس طرح کا پہلا واقعہ بتایا جاتا ہے۔ جوناگڑھ کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (سی سی ایف) رتن نالہ نے اس واقعہ کی تصدیق کی۔

ویساودر کے نانی مونپری گاؤں میں اتوار کو ایک شیرنی نے 4 سالہ شیوم نامی لڑکے کو ہلاک کردیا تھا، جس کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس کے بعد محکمہ جنگلات نے آدم خور شیرنی کو پکڑنے کے لیے جنگی کارروائی شروع کی۔ جیسے ہی شیرنی کی لوکیشن معلوم ہوئی، جنگلات کے اہلکاروں نے اسے پرسکون کرنے کے لیے ایک ٹرانکوئلائزر گن کا استعمال کیا۔ بدقسمتی سے شیرنی کو لگنے کے بجائے گن سے چھوڑا گیا انجکشن موقع پر موجود محکمہ جنگلات کے ٹریکر اشرف بھائی چوہان کو لگا۔

جس کی وجہ سے اشرف بھائی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ فاریسٹ ٹریکر اشرف بھائی کو فوری طور پر جوناگڑھ کے ایک اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔ اتوار کی رات سے ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں کے باوجود اشرف بھائی کو بچایا نہ جا سکا۔ ان کا آج صبح انتقال ہوگیا۔ ڈیوٹی کے دوران جنگلاتی کارکن کی اس المناک موت سے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران سمیت پورے عملے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جوناگڑھ کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (سی سی ایف) رتن نالہ نے بتایا کہ عام طور پر شیرنی کا وزن انسان سے تین گنا ہوتا ہے۔ جہاں ایک عام انسان کا وزن تقریباً 70 کلو گرام ہوتا ہے، وہیں ایک شیرنی کا وزن 200 کلو گرام سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر جنگلی جانوروں کو بے ہوش کرنے کے لیے ٹرانکوئلائزرز کی ڈوز کا تعین کرنے کی بنیاد ہے۔ شیرنی کے لیے طے کیا گیا دواکا بھاری ڈوز ڈارٹ ٹریکر کے جسم میں داخل ہو گیا، انسانوں کے نسبتاً کم وزن کی وجہ سےیہ جان لیوا ثابت ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande