
نئی دہلی، 5 جنوری (ہ س) سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کرنے والے پانچ ملزمین پر ضمانت کی سخت شرائط عائد کی ہیں۔ جسٹس اروند کمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ ملزمین کسی ریلی میں حصہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی پوسٹر تقسیم کر سکتے ہیں۔
عدالت نے 2 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور 2 لاکھ روپے کے مقامی ضمانتی مچلکے سمیت شرائط عائد کی ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ پانچوں ملزمان ٹرائل کورٹ کی اجازت کے بغیر دہلی سے باہر سفر نہیں کر سکتے۔ عدالت نے پانچوں ملزمین کو اپنے پاسپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی ملزم کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے تو وہ اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کریں گے۔
سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو ہفتے میں دو بار (پیر اور جمعرات) کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے ملزمین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے رہائشی پتے، فون نمبر اور ای میل ایڈریس تفتیشی افسر کو فراہم کریں۔ انہیں کیس میں گواہوں سے رابطہ نہ کرنے اور شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ کیس سے متعلق کوئی بھی معلومات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
پیر کو سپریم کورٹ نے کیس کے دو ملزمان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کردی۔ اس کیس کے چار دیگر ملزمین کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے ان میں صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا اور نتاشا نروال شامل ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی