لال قلعہ دھماکے کا ملزم یاسر احمد ڈار کو 16 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیجا گیا
نئی دہلی، 5 جنوری (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم یاسر احمد ڈار کو 16 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چاندنا نے عدالتی حراست کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے اسے 26 دسمبر 2025 کو
Patiala-House-Court-Red-Fort-Blast-Yasir-Ahmad-Dar


نئی دہلی، 5 جنوری (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم یاسر احمد ڈار کو 16 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چاندنا نے عدالتی حراست کا حکم جاری کیا۔

عدالت نے اسے 26 دسمبر 2025 کو آج تک کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں بھیجاتھا۔ اس معاملے میں نو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سبھی فی الحال حراست میں ہیں۔ 18 نومبر کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم اور خودکش بمبار ڈاکٹر عمر نبی کے ساتھی جسیر بلال وانی عرف دانش کو این آئی اے کی تحویل میں دے دیا تھا۔ این آئی اے نے دانش کو سری نگر سے گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل ایک راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔

این آئی اے کے مطابق دانش نے عمر ان نبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا۔ وہ اکتوبر 2024 میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پرتیار ہوا، جہاں سے اسے فرید آباد، ہریانہ میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لیے لے جایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ 10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے، گاڑی عامر رشید علی کے نام پر تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande