
بنگلورو، 5 جنوری (ہ س)۔ اتوار کی رات اس وقت بھگدڑ مچ گئی جب اوم شکتی مالادھاری کے عقیدت مندوں کے ایک جلوس پر جو سلیکن سٹی کے جے جے نگر علاقے میں وی ایس پارک کے قریب نکل رہا تھا، پر اچانک پتھراؤ کیا گیا۔ پتھراؤ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل لوگوں نے جے جے نگر پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے شرپسندوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے واقعہ کے سلسلے میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقامی رکن اسمبلی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مذہبی تقریب میں خلل ڈالنے پر اپنا اعتراض ظاہر کیا۔ پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں تین نابالغ لڑکوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
جے جے نگر پولیس اسٹیشن کے تحت وی ایس پارک کے قریب اوم شکتی مالادھاری برادری کے لوگ جلوس نکال رہے تھے کہ اچانک کچھ لوگوں نے شرکاء پر پتھراؤ شروع کردیا۔ اندھیرے میں جلوس کے شرکاء پر پتھراؤ کیا گیا جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پتھراؤ میں متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں دو نوجوان خواتین بھی شامل تھیں جن کے سروں سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ واقعہ کے فوراً بعد اوم شکتی مالادھاری برادری کے ناراض ارکان نے جے جے نگر پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے شرپسندوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دیگر برادریوں کے افراد نے جان بوجھ کر پتھر پھینکے ہیں۔ ایک مظاہرین نے بتایا کہ علاقے میں ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں لوگ ہر روز خوف کے عالم میں رہتے ہیں۔ شرپسندوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ زخمی خاتون کے رشتہ دار نے بتایا کہ ملزم کی شناخت ناممکن ہے کیونکہ پتھراؤ اندھیرے میں ہوا۔
اوم شکتی مالادھاری کے صدر ششی کمار کی شکایت پر جے جے نگر پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔
ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جے جے نگر کے وی ایس گارڈن میں اوم شکتی مندر کے پاس پتھراؤ کے واقعہ کے سلسلے میں پولیس نے تین نابالغ لڑکوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کی شام جب اوم شکتی مالدھاری دیوی کے رتھ کے ساتھ جلوس نکالا جا رہا تھا تو کچھ شرپسندوں نے جلوس پر پتھراؤ کیا۔ تین نابالغ لڑکے، جن کی عمریں 15 سے 17 سال کے درمیان ہیں، اس واقعے میں ملوث تھے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس جوینائل ڈیلینکونسی ایکٹ کے تحت آتا ہے اور پولیس مزید قانونی کارروائی کرے گی۔
ایم پی پی سی موہن نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور کہا کہ علاقے میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں لوگ خوف کے عالم میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مذہبی رسومات میں خلل کیوں ڈالا جا رہا ہے۔
بنگلورو ویسٹ ڈویژن کے ڈی سی پی یتیش نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے دو انسپکٹرز کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور جلد ہی ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس واقعہ کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے احتیاطی اقدام کے طور پر جے جے نگر علاقہ میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور کے ایس آر پی کی دو پلاٹون کو تعینات کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد