دہلی ہائی کورٹ نے وکاس یادو کی 21 دن کی فرلو کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا
نئی دہلی، 5 جنوری (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے نتیش کٹارا قتل معاملے میں سزا کاٹ رہے وکاس یادو کی تین ہفتہ کی فرلو کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس رویندر ڈوڈیجا کی بنچ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفو
Delhi-High-Court-Vikash-Yadav-Nitish-Katara-Murder


نئی دہلی، 5 جنوری (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے نتیش کٹارا قتل معاملے میں سزا کاٹ رہے وکاس یادو کی تین ہفتہ کی فرلو کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس رویندر ڈوڈیجا کی بنچ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے دوران، نتیش کٹارا کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل سنچار آنند نے وکاس یادو کی درخواست کی مخالفت کی اور دلیل دی کہ اگر اسے پیرول پر رہا کیا گیا تو گواہوں کی سیکورٹی متاثر ہوگی۔ اس دلیل کا جواب دیتے ہوئے وکاس یادو کے وکیل وکاس پاہوا نے کہا کہ گواہ کے لئے 20-20 سیکورٹی اہلکار چوبیس گھنٹے کی سیکورٹی کے لئے مستعد رہتے ہیں۔

وکاس یادو نے تہاڑ جیل کے انسپکٹر جنرل سے تین ہفتے کی فرلو کی درخواست کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ جیل انتظامیہ نے اس کے خلاف جرم کی سنگینی اور متاثرہ کے خاندان کی حفاظت اور جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کو مسترد کر دیا۔

وکاس یادو نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں وکاس یادو نے کہا ہے کہ اس نے اپنی 25 سال کی سزا کے دوران 23 سال سے زیادہ حراست میں گزارے ہیں۔ وکاس یادو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ماں کی دیکھ بھال اور شادی میں شرکت کے لیے چار ماہ کے لیے عبوری ضمانت پر رہا، لیکن اس نے ضمانت کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی۔

قابل ذکر ہے کہ 3 اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ نے وکاس یادو کی سزا کو گھٹا کر 25 سال کر دیا تھا۔ وکاس یادو اتر پردیش کے طاقتور لیڈر ڈی پی یادو کا بیٹا ہے ۔ نتیش کٹارا کو 17 فروری 2002 کو قتل کر دیا گیا تھا۔ نتیش کا وکاس یادو کی بہن بھارتی یادو کے ساتھ پیار تھا۔ یہ محبت کا معاملہ یادو خاندان کو منظور نہیں تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande