لڑکیوں سے دوستی کرکے مذہب تبدیل کرنے کے الزام میں دو گرفتار، تین جم سیل کر دیے گئے
مرزا پور، 21 جنوری (ہ س)۔ اتر پردیش کے مرزا پور میںجم میں دوستی کے نام پر لڑکیوں کو بہلا کر ان پر مذہب تبدیل کرنے کے سنگین الزام میں پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ دو دیگر کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی حساسیت
UP-GYM-RELIGION CHNAGE


مرزا پور، 21 جنوری (ہ س)۔ اتر پردیش کے مرزا پور میںجم میں دوستی کے نام پر لڑکیوں کو بہلا کر ان پر مذہب تبدیل کرنے کے سنگین الزام میں پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ دو دیگر کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے تین جموں کو بھی سیل کر دیا ہے۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، رتیش سنگھ نے بتایا کہ دو الگ الگ متاثرہ لڑکیوں نے کوتوالی دیہات پولیس اسٹیشن میں تحریر دے کر الزام لگایا کہ کچھ نوجوان پہلے دوستی کرتے ہیں، پھر انہیں ورغلا کر تبدلی مذہب کا دباو بناتے ہیں۔ شکایت ملنے پر فوری طور پر ایک کیس درج کر کے سرکل آفیسر صدر کی قیادت میں چار مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں ایس او جی، کوتوالی کٹرا، سٹی اور کوتوالی دیہات کو شامل کیا گیا۔

منگل کی رات کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے نٹواں ملت نگر کے رہنے والے محمد شیخ علی عالم اور کوتوالی سٹی تھانہ گوسائی تالاب کے رہنے والے فیصل خان کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ظہیر اور شاداب کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

تفتیش سے پتہ چلا کہ ملزم ظہیر کے جی این-1 جم کا مالک ہے اور اس کاکے جی این-2، کے جی این-3 اور آئرن فائر جم سے بھی تعلق رہا ہے۔ متاثرین پہلے کے جی این جم میں جا تی تھیں۔ شواہد کے تحفظ اور منصفانہ تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے تمام متعلقہ جموں کو سیل کر دیا ہے۔

اے ایس پی نگر نے کہا کہ کیس کی مکمل تفتیش جاری ہے اور جو بھی ملزم قصوروار پایا گیا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande