حکومت نے طالب علم کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا
حکومت نے طالب علم کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا جموں، 21 جنوری (ہ س)۔ ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ کی سفارش پر حکومتِ جموں و کشمیر نے گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سی) ڈوڈہ کے ایک طالب علم کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات
Suspended


حکومت نے طالب علم کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا

جموں، 21 جنوری (ہ س)۔ ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ کی سفارش پر حکومتِ جموں و کشمیر نے گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سی) ڈوڈہ کے ایک طالب علم کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انصاف اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کالج کے ایک فیکلٹی ممبر کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔ طالب علم کے اہلِ خانہ کی ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کے بعد ضلع سطح پر فیکٹ فائنڈنگ اور مجسٹریل انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے بعد ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے باضابطہ سفارش حکومت کو ارسال کی گئی۔ ان سفارشات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔

حکومتی حکم نامہ کے مطابق، تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ اور شفاف طریقے سے جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی دوران ایک اور اہم اقدام کے تحت، حکومتی حکم نامہ کے ذریعے جی ڈی سی ڈوڈہ کے اسسٹنٹ پروفیسر (کامرس) پروفیسر منظور احمد کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہیں فوری طور پر ڈائریکٹر کالجز، جموں و کشمیر کے دفتر سے منسلک کیا گیا ہے، جو انکوائری مکمل ہونے تک نافذ العمل رہے گا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات کسی نتیجے تک پہنچنے کے مترادف نہیں بلکہ احتیاطی اور اصلاحی نوعیت کے ہیں، جو انتظامیہ کے انصاف، شفافیت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ضلع انتظامیہ ڈوڈہ کی بروقت مداخلت کو مختلف حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ طلبہ کی سلامتی اور وقار حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تعلیمی اداروں سے متعلق شکایات کو سنجیدگی اور جوابدہی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

اس واقعے نے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، طلبہ کی کونسلنگ اور ایک معاون تعلیمی ماحول کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے سانحات اجتماعی کوششوں، بروقت شنوائی اور اداروں، خاندانوں و سماج کی ذمہ دارانہ شراکت سے روکے جا سکتے ہیں۔ضلع انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ قیاس آرائیوں اور غلط معلومات سے گریز کریں اور انکوائری کو قانونی اور تعمیری انداز میں آگے بڑھنے دیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande