
ٹی جی ایم آر ای آئی ایس آن لائن داخلہ پورٹل 27-2026 کا آغاز
حیدرآباد، 20 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ میں اقلیتی تعلیم کے نظم و نسق میں ایک اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب ٹی جی ایم آر ای آئی ایس آن لائن داخلہ پورٹل 27-2026 کا آغاز کیا گیا۔ اس اصلاحی اقدام کی قیادت محمد فہیم الدین قریشی کر رہے ہیں، جو اس پورے عمل کی منصوبہ بندی اور رہنمائی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ٹی جی ایم آر ای آئی ایس کے وائس چیئرمین اورصدر کی حیثیت سے محمد فہیم الدین قریشی نے اس منصوبے کو محض ایک تکنیکی تبدیلی کے بجائے ایک منظم اصلاحی قدم قراردیا ہے، جس کا مقصد ریاست بھرمیں ہزاروں طلبہ کے لیے داخلہ کے عمل کو زیادہ آسان، تیز اور منصفانہ بنانا ہے۔دلالوں اور بیچ کے افراد کا کوئی کردار نہ ہو،تمام اہل طلبہ کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔ محمد فہیم الدین قریشی نے کہا کہ نئے آن لائن نظام کا بنیادی مقصد والدین اور طلبہ کو درپیش پرانے مسائل کا خاتمہ ہے۔ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ پیچیدہ کاغذی کارروائی سے نجات ملے۔بار بار دفاتر کے چکرنہ لگانے پڑیں۔
حکام کے مطابق یہ پورٹل شفاف، جوابدہ اورنتائج پرمبنی نظم ونسق کی سمت ان کی مستقل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔آن لائن داخلہ پلیٹ فارم کا باضابطہ افتتاح تلنگانہ کے وزیرِاقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے کیا۔ سینئرعہدیداروں بشمول بی شفیع اللہ بھی موجود تھے۔ تقریب نے اقلیتی تعلیم کو جدید ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنے میں محمد فہیم الدین قریشی کی قیادت پر حکومت کے اعتماد کو اجاگر کیا۔ ان کی نگرانی میں ٹی جی ایم آر ای آئی ایس کا تعلیمی نیٹ ورک محمد فہیم الدین قریشی کی قیادت میں ٹی جی ایم آر ای آئی ایس اس وقت تلنگانہ بھر میں 204 اقلیتی رہائشی اسکول،118 اقلیتی جونیئر کالج کا انتظام کررہا ہے۔ ان اداروں میں مفت تعلیم، رہائشی سہولیات، معیاری تعلیمی معاونت اور نیٹ (نیٹ) جیسے مسابقتی امتحانات کی خصوصی تیاری فراہم کی جاتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ داخلے صرف اقلیتی طبقات تک محدود نہیں بلکہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور او سی طلبہ کے لیے بھی کھلے ہیں، جس سے شمولیت اور مساوات کو فروغ ملتا ہے۔ محمد فہیم الدین قریشی بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ڈیجیٹل اصلاحات کا فائدہ شہری علاقوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ موبائل کے ذریعے درخواست کی سہولت سے دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ بغیرکسی دلال یا سفر کے آسانی سے درخواست دے سکتے ہیں۔توقع ہے کہ اس اقدام سے پسماندہ علاقوں کے طلبہ کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق