
ممبئی ، 20 جنوری(ہ س)۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جانب سے اپنے گروپ کے منتخب کونسلروں کو ہوٹل میں ٹھہرانے کے معاملے پر مہاراشٹر نو نرمان سینا کے رہنما امت ٹھاکرے نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شندے گروپ کے کونسلر عوام کے درمیان نظر نہیں آ رہے اور سوال اٹھایا کہ آخر مہاراشٹر کی سیاست کس حد تک گر سکتی ہے۔ امت ٹھاکرے کا یہ بیان 20 جنوری کو سامنے آیا۔بی ایم سی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سیاسی خرید و فروخت کے خدشات کے پیش نظر نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے گروپ کے 29 منتخب کونسلروں کو ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرا دیا تھا۔ اسی فیصلے کو لے کر امت ٹھاکرے نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورا معاملہ ایک سیاسی تماشا بن چکا ہے۔ امت ٹھاکرے نے کہا کہ انتخابی نتائج کے فوراً بعد عوامی نمائندوں کو اپنے اپنے وارڈز میں جا کر ووٹروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا اور مقامی مسائل کے حل کے لیے کام شروع کرنا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس منتخب نمائندے بند دروازوں کے پیچھے ہوٹل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا شندے گروپ کو اپنے ہی کونسلروں پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا یہ سب ذاتی مفاد اور اقتدار کی سیاست کا نتیجہ نہیں؟ امت ٹھاکرے کے مطابق یہ طرزِ عمل ان عام شہریوں کی توہین ہے جنہوں نے اپنا ووٹ دے کر ان نمائندوں کو منتخب کیا۔امت ٹھاکرے نے مزید کہا کہ اس پورے ڈرامے کا خمیازہ ان سیاحوں کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے جو اپنی محنت کی کمائی سے ہوٹل بک کرتے ہیں، کیونکہ سیکیورٹی کے نام پر انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ سب عوامی پیسے اور وسائل کا غلط استعمال ہے، جسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے