
مقامی انتخابات سے قبل مہایوتی اتحاد میں تناؤ ، اتحاد کے اعلان پر بی جے پی کارکنان کا شدید احتجاج اورنگ آباد ، 20 جنوری (ہ س)۔ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات کے پیشِ نظر اورنگ آباد میں مہایوتی اتحاد کی میٹنگ سیاسی کشیدگی کا باعث بن گئی۔ کیز ہوٹل میں بی جے پی اور شیو سینا کے قائدین کے درمیان ہونے والی اس میٹنگ کے بعد اتحاد کے اعلان نے بی جے پی کارکنان میں شدید ناراضی پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں احتجاج اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔مہانگر پالیکا انتخابات کے دوران مہایوتی میں ہم آہنگی نہ بننے کے باعث آخری مرحلے پر اتحاد ٹوٹ گیا تھا۔ اس انتخاب میں بی جے پی کو بہتر نتائج حاصل ہوئے، جبکہ شیو سینا کو محدود کامیابی ملی۔ اب مقامی سطح کے انتخابات میں دونوں جماعتوں نے دوبارہ اتحاد کی راہ اختیار کی، مگر یہ فیصلہ زمینی سطح پر اختلافات کو جنم دے گیا۔میٹنگ میں بی جے پی کی نمائندگی وزیر اتل ساوے، رکنِ پارلیمان بھاگوت کراڈ اور رکنِ اسمبلی سنجے کینیکر نے کی، جبکہ شیو سینا کی طرف سے نگران وزیر سنجے شرساٹھ، رکنِ پارلیمان سندیپان بھومرے، رکنِ اسمبلی رامیش بورنارے اور سنجنا جادھو شریک تھے۔ اتحاد کے اعلان کے فوراً بعد ویجا پور کے بی جے پی کارکنان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔احتجاج کرنے والے کارکنان نے اتحاد کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اتل ساوے کی گاڑی کا گھیراؤ کیا اور زوردار نعرے لگائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ نشستوں کی تقسیم میں بی جے پی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور اس اتحاد سے پارٹی کارکنوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔بعد میں اتل ساوے اور سنجے شرساٹھ نے پریس کانفرنس میں اتحاد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو 27 اور شیو سینا کو 25 نشستیں دی گئی ہیں۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود بی جے پی کارکنان کی ناراضی کم نہ ہو سکی۔ذرائع کے مطابق نشستوں کی تقسیم کے دوران اجلاس میں تلخ کلامی بھی ہوئی، اور سنجے شرساٹھ وقتی طور پر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ بعد میں سندیپان بھومرے کی مداخلت سے وہ واپس آئے اور بات چیت مکمل ہوئی۔ سندیپان بھومرے نے کہا کہ اتحاد کا فیصلہ اعلیٰ قیادت کی سطح پر ہوا ہے اور تمام کارکنوں کو انصاف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اورنگ آباد میں آنے والے مقامی انتخابات سے قبل سیاسی گہماگہمی اور کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے