
علی گڑھ، 20 جنوری (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے اشتراک سے سماجی علوم کے اُردو میڈیم کے اساتذہ کے لیے ”تعلیم کے مستقبل کی تشکیل“ موضوع پر چار روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس کا ہدف اردو میڈیم اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور کلاس روم تدریس کو بہتر بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب کی صدارت سابق وائس چانسلر اے ایم یو پروفیسر محمد گلریز نے کی، جبکہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی مہمانِ خصوصی تھیں۔کے اے نظامی مرکز برائے قرآنی مطالعات کے ڈائریکٹر پروفیسر اے آر قدوائی مہمانِ اعزازی تھے۔ پروگرام کی کنوینر شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن پروفیسر نکہت نسرین اور شریک کنوینر پروفیسر ساجد جمال ہیں۔ ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے اردو تعلیم کے فروغ اور اردو میں تعلیمی مواد کی تیاری کے لیے این سی پی یو ایل کی کوششوں پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر اے آر قدوائی نے سماجی علوم کی تعلیم میں وضاحت، موزوں زبان کے استعمال اور تنقیدی سوچ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد گلریز نے فکری نشوونما میں مطالعے کی عادت اور زبانوں کے کردار پر زور دیا۔ اس سے قبل مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروفیسر نکہت نسرین نے کہا کہ یہ پروگرام اردو میڈیم سماجی علوم کے اساتذہ کو درپیش تدریسی مسائل اور پیشہ ورانہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ پروفیسر ساجد جمال نے شرکاء کو پروگرام کے مقاصد اور ساخت سے آگاہ کیا۔
مقررین نے سماجی علوم کی تدریس کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چار روزہ یہ پروگرام 23 جنوری تک جاری رہے گا، جس میں 16 سیشن ہوں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ