
بھوپال، 20 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ کچھ دنوں سے شدید سردی سے لوگوں کو جزوی راحت ملی ہے۔ مسلسل دو راتوں میں کم سے کم درجہ حرارت تقریباً 4 ڈگری تک بڑھا ہے۔ دن کے وقت دھوپ بھی نکل رہی ہے، لیکن محکمہ موسمیات نے اشارے دیے ہیں کہ جنوری کے آخری ہفتے میں سردی ایک بار پھر زور پکڑ سکتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق، مغربی ہمالیائی خطے میں سرگرم سسٹم کے آگے بڑھنے کے بعد ریاست میں سردی کا اثر بڑھے گا۔ فی الحال مدھیہ پردیش کے اوپر دو موسمی سسٹم سرگرم ہیں۔ ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ اور ’سائیکلونرک سرکولیشن‘ کے سبب کئی اضلاع میں بادل چھائے ہوئے ہیں۔ 21 جنوری کو ایک مضبوط ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ شمال مغربی ہندوستان کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے سبب 23 جنوری سے جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی، راجستھان اور اتر پردیش میں موسم میں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس سسٹم کا اثر مدھیہ پردیش کے شمالی حصوں میں بھی پڑنے کا امکان ہے۔
گوالیار، چمبل، ریوا اور ساگر ڈویژن میں بادل چھانے کے ساتھ ہلکی بارش کے آثار ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اگلے چار دنوں تک کوئی موسم کی وارننگ جاری نہیں کی ہے، لیکن آنے والا ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ شدید ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بادل اور ہلکی بارش کا امکان بنا ہوا ہے۔ اگلے دو-تین دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
پیر کی رات ریاست میں سب سے کم درجہ حرارت کٹنی کے کروندی میں درج کیا گیا، جہاں کم سے کم درجہ حرارت 7.3 ڈگری سیلسیس رہا۔ پانچ بڑے شہروں میں اندور سب سے ٹھنڈا رہا، جہاں پارہ 8.2 ڈگری تک گرا۔ بھوپال میں کم سے کم درجہ حرارت 10.6 ڈگری، گوالیار میں 10.8 ڈگری، اجین میں 10 ڈگری اور جبل پور میں 13.8 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ شہڈول کے کلیان پور میں 7.7 ڈگری، کھجراہو میں 8 ڈگری، منڈلا اور راج گڑھ میں 8.4 ڈگری، دتیا میں 9 ڈگری اور پچمڑھی میں 9.8 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہا۔ ریاست کے دیگر شہروں میں کم سے کم درجہ حرارت 10 ڈگری یا اس سے زیادہ درج کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن