رائسین ضلع اسپتال میں نرسوں کا غصہ پھوٹا، پولیس چوکی پر تالا جڑا
ہیڈ کانسٹیبل پر بدتمیزی کا الزام، کالی پٹی باندھ کر مظاہرہ کیا رائسین، 20 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع اسپتال میں منگل کو اس وقت کشیدہ صورتحال بن گئی، جب نرسوں نے اسپتال احاطے میں واقع پولیس چوکی پر تالا جڑ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ نرسوں
رائسین ضلع اسپتال میں نرسوں کا غصہ پھوٹا


پولیس چوکی پر تالا جڑا


ہیڈ کانسٹیبل پر بدتمیزی کا الزام، کالی پٹی باندھ کر مظاہرہ کیا

رائسین، 20 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع اسپتال میں منگل کو اس وقت کشیدہ صورتحال بن گئی، جب نرسوں نے اسپتال احاطے میں واقع پولیس چوکی پر تالا جڑ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ نرسوں نے چوکی میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل پر ڈیوٹی کے دوران بدتمیزی کا سنگین الزام لگاتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نرسوں کی حمایت میں ڈاکٹروں نے بھی مورچہ سنبھال لیا اور اسپتال احاطے میں نعرے بازی کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔ مظاہرین صحت ملازمین نے کالی پٹی باندھ کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ نرسوں کا کہنا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل کرشن پال نے ڈیوٹی کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اس سلسلے میں تین دن پہلے کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو تحریری شکایت دی گئی تھی، لیکن اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہونے سے صحت ملازمین کا غصہ بھڑک اٹھا۔

نرسوں نے کہا کہ اسپتال میں تعینات پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری سیکورٹی یقینی بنانے کی ہے، لیکن جب وہی غیر مہذب رویہ اختیار کریں گے، تو خاتون صحت ملازمین محفوظ ماحول میں کام کیسے کر پائیں گی۔ اسی ناراضگی کے سبب انہوں نے علامتی طور پر پولیس چوکی بند کر دی۔ مظاہرین نرسوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد ہی ملزم ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، تو وہ کام بند کر کے شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گی، جس کی پوری ذمہ داری انتظامیہ کی ہوگی۔ ڈاکٹروں نے بھی کالی پٹی باندھ کر نرسوں کی تحریک کی حمایت کی۔

معلومات کے مطابق، تنازعہ کی شروعات تین دن پہلے ہفتہ کی رات ہوئی تھی، جب کچھ مریضوں کے اہل خانہ ضلع اسپتال پہنچے تھے۔ اسی دوران کسی بات کو لے کر ایک نرس اور ہیڈ کانسٹیبل کے درمیان کہا سنی ہو گئی۔ بعد میں ہیڈ کانسٹیبل نے بھی نرس پر بدتمیزی کا الزام لگاتے ہوئے ایک میمورنڈم سونپا تھا۔ فی الحال پورے معاملے نے طول پکڑ لیا ہے اور ضلع انتظامیہ و محکمہ پولیس کے کردار پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande