ریسرچ میتھڈلوجی ورکشاپ سے اے ایم یو کی پروفیسر کا خطاب
علی گڑھ،20 جنوری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کی پروفیسر نشاط فاطمہ نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور میں واقع گورنمنٹ کالج کُنڈم میں منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ برائے ریسرچ میتھڈلوجی میں آن لائن افتتاحی لیکچر دیا، جس م
ریسرچ میتھڈلوجی ورکشاپ سے اے ایم یو کی پروفیسر کا خطاب


علی گڑھ،20 جنوری (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کی پروفیسر نشاط فاطمہ نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور میں واقع گورنمنٹ کالج کُنڈم میں منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ برائے ریسرچ میتھڈلوجی میں آن لائن افتتاحی لیکچر دیا، جس میں انھوں نے ریسرچ کے طریق ہائے عمل کے مبادیات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحقیق کو ایک منظم، معروضی اور سائنسی جستجو قرار دیا، جو علم کی تشکیل، موجودہ معلومات کی توثیق اور حقیقی سماجی مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے سماجی علوم میں تحقیق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی رویوں، سماجی ڈھانچوں اور ثقافتی حرکیات کو سمجھنے میں اس کے کردار کو اجاگر کیا، نیز پالیسی سازی، سماجی منصوبہ بندی، علمی ترقی اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی میں تحقیق کی افادیت پر زور دیا۔ پروفیسر فاطمہ نے کہا کہ معیاری تحقیق مؤثر حکمرانی اور سماجی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

پروفیسر فاطمہ نے تحقیق کی مختلف اقسام، بنیادی اور اطلاقی تحقیق، مقداری اور معیاری طریق کار، نیز توصیفی اور تجرباتی طریقوں پر روشنی ڈالی اور انہیں مثالوں کے ذریعے واضح کیا۔ انہوں نے تحقیقی مسئلے کی شناخت، لٹریچر کا جائزہ، مقاصد اور مفروضات کی تشکیل، تحقیقی خاکہ، اعداد و شمار کا حصول، تجزیہ اور رپورٹ نویسی سمیت تحقیقی عمل کے اہم مراحل کا بھی خاکہ پیش کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande