ای ڈی نے ’فرضی‘ آئی ٹی سی جی ایس ٹی معاملے میں کئی ریاستوں میں چھاپے مارے
نئی دہلی/کولکاتا، 20 جنوری (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اروناچل پردیش میں شروع ہونے والے 658 کروڑ روپے کے مبینہ فرضی جی ایس ٹی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ اسکام کے سلسلے میں منگل کو کئی ریاستوں میں چھاپے مارے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انفورسمنٹ ڈا
ای ڈی نے ’فرضی‘ آئی ٹی سی جی ایس ٹی معاملے میں کئی ریاستوں میں چھاپے مارے


نئی دہلی/کولکاتا، 20 جنوری (ہ س)۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اروناچل پردیش میں شروع ہونے والے 658 کروڑ روپے کے مبینہ فرضی جی ایس ٹی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ اسکام کے سلسلے میں منگل کو کئی ریاستوں میں چھاپے مارے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) 658 کروڑ روپے کے جی ایس ٹی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے مبینہ دھوکہ دہی کے سلسلے میں کئی ریاستوں میں چھاپے مار رہا ہے۔ پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) 2002 کی دفعات کے تحت اس کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور منی پور میں کیس سے منسلک افراد اور کمپنیوں کے کئی مقامات کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

ایٹا نگر، اروناچل پردیش میں ای ڈی کا دفتر مختلف ریاستی پولیس فورسز کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کر رہا ہے۔ منی لانڈرنگ کا یہ معاملہ ایٹا نگر پولیس کے ذریعہ درج ایک ایف آئی آر سے ہوا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ راکیش شرما اور آشوتوش کمار جھا نامی افراد نے کسی بھی حقیقی سامان یا خدمات کی فراہمی کے بغیر فرضی رسیدوں کے ذریعہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) کا دھوکہ دہی سے فائدہ اٹھایا۔ اس کیس میں سدھی ونائک ٹریڈ مرچنٹس نامی ایک فرضی کمپنی بھی شامل ہے، جس نے مبینہ طور پر 658.55 کروڑ کے جعلی بلوں کی بنیاد پر 99.31 کروڑ کاآئی ٹی سی حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، مختلف ریاستوں میں پھیلی 58 شیل کمپنیاں ای ڈی کی تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔یہ بات قابل غور ہے کہ آئی ٹی سی گڈز اینڈ سروسز ٹیکس سسٹم میں ایک قانونی پروویڑن ہے، جو کاروباری اداروں کو کاروبار سے متعلقہ خریداریوں پر ادا کیے گئے جی ایس ٹی پر کریڈٹ کا دعوی کرکے اپنی ٹیکس کی ذمہ داری کو کم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande