
کولکاتا، 20 جنوری (ہ س)۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کچھ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر او) اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (اے ای آر اوز) سے وضاحت طلب کرنے پر غور کر رہا ہے جنہوں نے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ای سی آئی کی واضح ہدایات کو نظر انداز کیا۔ الزام ہے کہ دعوو¿ں اور اعتراضات کی سماعت کے دوران ان افسران نے ایسے شناختی کارڈ قبول کیے جو الیکشن کمیشن کی منظور شدہ دستاویزات کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں تھے۔الیکشن کمیشن نے ووٹر رجسٹریشن کی حمایت میں 13 قابل قبول شناختی دستاویزات کو واضح طور پر درج کیا اور ہدایت کی کہ دیگر دستاویزات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرز (ڈی ای اوز) سے بھی کہا گیا کہ وہ ان رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
اس کے باوجود، ای آر اوز اور ای آر او ایس کے غیر فہرست شدہ دستاویزات کو قبول کرنے کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ اس سے ایس آئی آر کے پورے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، کیونکہ ایسے ووٹروں کو صحیح دستاویزات کے ساتھ واپس بلانا پڑے گا۔ دوسری طرف کچھ مفاد پرست اس کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن پر ووٹروں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔یوگ کا ماننا ہے کہ اس طرح کی لاپرواہی نہ صرف ڈیڈ لائن کو متاثر کرتی ہے بلکہ پورے عمل کی شفافیت اور ساکھ پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اس لیے کمیشن اب متعلقہ ای آر اوز اور اے ای آر اوز سے جواب طلب کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ پیر کو ختم ہوگئی۔ سماعت کا عمل 7 فروری تک جاری رہے گا، جب کہ حتمی ووٹر لسٹ 14 فروری کو شائع کی جائے گی۔ آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے، کمیشن نے ریاست بھر میں 6500 مراکز پر روزانہ تقریباً 700,000 سماعتیں کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن کی ایک مکمل بنچ مغربی بنگال کا دورہ کرے گی۔ ریاست کے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان اس کے بعد متوقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan