
حیدرآباد ، 20 جنوری (ہ س)۔ حیدرآباد میں جاری آٹو بند سے متعلق نئے اور تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ موصول ہونے والی ویڈیوز اور مقامی افراد کے بیانات کے مطابق، یہ بند مکمل طور پر رضاکارانہ نہیں ہے بلکہ کئی آٹو ڈرائیوروں کو زبردستی اسٹرائک میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کئی آٹو ڈرائیور معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے ڈرائیوروں کو سڑکوں پر روک کر زبردستی آٹو بند کروایا جا رہا ہے۔دباؤ ڈال کراسٹرائک کو مکمل اور مشترکہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مسافروں کو لے جانے والے آٹوز کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے۔آٹومیں بیٹھے مسافروں کو زبردستی نیچے اتاراجارہا ہے۔اسٹرائک سے انکار کرنے والے آٹو ڈرائیوروں پر راڈ اور دیگر اشیاء سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ان واقعات کے باعث مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور بعض علاقوں میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔جزوی آٹو بند اور زبردستی روکے جانے کے سبب،آٹو سروس غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔آرٹی سی بسوں میں مسافروں کا دباؤغیرمعمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔خواتین، بزرگوں اور طلبہ کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔دفاتر،اسکولوں اورروزمرہ کے کاموں میں تاخیرہورہی ہے۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ زبردستی اسٹرائک کروا کریہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تمام آٹوڈرائیورزمتحد ہیں۔حقیقت میں کچھ ڈرائیور خود اسٹرائک پر ہیں جبکہ کئی کومجبورکیا جارہا ہے۔اس عمل کا مقصد عوام کوپریشان کرکے حکومت کو بدنام کرنا ہے۔عوام کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ زبردستی اسٹرائک کروانے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے،معمول کے مطابق خدمات انجام دینے والے آٹو ڈرائیوروں کو مکمل تحفظ دیا جائے،مسافروں کو ہراساں کرنے اور تشدد کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے،حیدرآباد میں عوامی نقل و حمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے بحال کیا جائے۔عوام نے واضح کیا ہے کہ سیاسی مفادات کے لیے عوامی زندگی کو مفلوج کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق