
کولکاتا، 20 جنوری (ہ س)۔
شفاف عمل کو یقینی بنانے اور شہریوں کو غیر ضروری پریشانی سے بچانے کے لیے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے بارے میں الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے درمیان، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
بی جے پی نے پوچھا ہے کہ کیا سپریم کورٹ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) راجیو کمار کو ریاست میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کے لیے جوابدہ ٹھہرائے گی۔بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ اور مغربی بنگال کے لیے پارٹی کے مرکزی مبصر امیت مالویہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ پیر کو سپریم کورٹ کو ایک بار پھر مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دینا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ہدایت ہے جسے عدالت کو بار بار دہرانا پڑا ہے۔مالویہ کے مطابق جب سپریم کورٹ کا حکم لکھا جا رہا تھا، تب مغربی بنگال میں تشدد کے واقعات سامنے آ رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے گی۔اپنے بیان میں، جسے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا، مالویہ نے الزام لگایا کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں پولیس کی خاموش رضامندی سے بڑے پیمانے پر اور منظم تشدد ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ایروز) کو فارم 7 قبول کرنے سے روکنے کے لیے ہنگامہ کھڑا کیا، جب کہ پولس یا تو خاموش تماشائی بنی رہی یا بہت سے معاملات میں فعال طور پر تعاون کیا۔بی جے پی لیڈر نے خاص طور پر اقلیتی اکثریتی مرشد آباد ضلع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صورتحال کئی دنوں سے افراتفری کا شکار ہے اور راحت کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ انہوں نے اسے ریاست گیر، منصوبہ بند اور دستاویزی صورت حال کے طور پر بیان کیا، نہ کہ صرف الگ تھلگ واقعات۔مالویہ نے کہا،’یہ آئینی حکمرانی کے خاتمے کی واضح مثال ہے۔ کیا سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے گی اور ڈی جی پی اور ممتا بنرجی حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے گی؟‘
انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کے عوام ایک طرف آمرانہ حکمرانی اور دوسری طرف عدالتی بے حسی کے درمیان کچلے جا رہے ہیں۔ اپنے بیان میں، مالویہ نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران مبینہ طور پر حکمراں پارٹی کے کارکنوں کے ذریعہ تناو¿ اور تشدد کے واقعات کی ضلع وار بریک ڈاو¿ن بھی فراہم کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan