
جموں, 20 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے بالائی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن منگل کے روز تیسرے دن میں داخل ہوگیا، جس کے دوران کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ آپریشن اتوار کو چھاترو بیلٹ کے مندرل سنگھپورہ کے قریب واقع سننار گاؤں میں شروع کیا گیا تھا، جہاں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ پیش آئی۔ اس دوران ایک پیرا ٹروپر شہید جبکہ سات دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو زیادہ تر چوٹیں دہشت گردوں کی جانب سے اچانک کیے گئے گرینیڈ حملے کے باعث لگنے والے چھروں سے آئیں۔
جھڑپ کے بعد دہشت گرد گھنے جنگلات میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، تاہم سیکورٹی فورسز نے ان کا ایک مضبوط ٹھکانہ تباہ کر دیا۔ اس ٹھکانے سے موسمِ سرما کے لیے جمع کیا گیا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا، جس میں خوراک، کمبل اور برتن شامل ہیں۔آپریشن کی نگرانی کے لیے انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون بھیم سین توتی اور انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف جموں آر گوپال کرشن راؤ سمیت کئی سینئر افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور فوجی افسران کے ساتھ وہیں قیام کیے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق پیر کی دوپہر کئی افراد کو دہشت گردوں کے ٹھکانے کے انکشاف کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جو تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع تھا۔ سیکورٹی فورسز اوور گراؤنڈ ورکرز کی شناخت کی کوشش کر رہی ہیں، جنہوں نے دہشت گردوں کو راشن، دالیں، برتن اور دیگر سامان فراہم کرنے اور منتقل کرنے میں مدد کی، جو سردیوں کے موسم میں کم از کم چار افراد کے لیے کافی تھا۔
فوج کے وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ چھاترو میں آپریشن ترشی ایک بدستور جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ علاقے کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا ہے اور تلاشی کارروائیوں کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے دستے علاقے میں تعینات ہیں۔حکام نے مزید بتایا کہ فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کئی ٹیمیں ڈرونز اور سنِفر ڈاگز کی مدد سے علاقے کی چھان بین کر رہی ہیں، تاہم گھنی جھاڑیوں اور کھڑی ڈھلوانوں پر مشتمل دشوار گزار علاقہ نقل و حرکت اور نگرانی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد سے وابستہ دو سے تین دہشت گردوں کے علاقے میں پھنسے ہونے کا شبہ ہے۔ یومِ جمہوریہ سے قبل جموں خطے میں سیکورٹی آپریشنز میں مزید تیزی لائی گئی ہے تاکہ پرامن تقاریب کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ انٹیلی جنس اطلاعات میں سرحد پار سے مزید دہشت گردوں کو بھیجنے کی کوششوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر