
علی گڑھ، 20 جنوری (ہ س)۔
علی گڑھ کے حساس ترین علاقے سبزی منڈی چوراہے پر واقع مسجد حلوائیان کی جگہ کا سروے کرنے میونسپل کارپوریشن اور ضلع انتظامیہ مع آر اے ایف کی ایک ٹیم کے پہنچتے ہی علاقہ میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ جائے وقوعہ پر ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا اور افواہیں پھیلنے لگیں۔ تفصیلات کے مطابق سی ایم گرڈ اسکیم کے تحت نالے بنانے اور سڑک کی تعمیر کا کام کیا جانا ہے مذکورہ مسجد کے قرب وجوار میں نالے بنانے کا کام مکمل ہوچکا ہے جب نالے بن رہے تھے تب ہی مسجد کی آگے کا حصہ جہاں دوکانیں بنی ہوئی ہیں وہ نالے کے اوپر بتائی جارہی تھیں اس وقت افسران سے ذمہ داران نے بات کی اور کام وہاں سے آگے بڑھ گیا لیکن گذشتہ دنوں کچھ ہندو وادی تنظیموں کے ذمہ داران کے ذریعہ مذکورہ مسجد کی دوکانوں کے ناجائز قبضہ کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا،ابھی گذشتہ روز مسجد سے آگے ریلوے روڈ پر بھی غیر مسلم دوکانداروں نے نالے کے کام کو بند کرایا اور اپنے اعتراضات درج کرائے اور کہا گیا کہ مسلم علاقوں میں مسجد کے ناجائزقبضہ کو جب چھوڑا جاسکتا ہے ہے تو پھر ہمارے ساتھ بھی نرمی برتی جائے، جس کے بعد میونسپل کارپوریشن کی ٹیم دوبارہ سے متحرک ہوئی اور مسجد کے حصہ کو ناپنے کے لئے آج مسجد کے ایک حصے کا سروے کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ غیر قانونی ہے۔ جب پولیس اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں جائے وقوعہ کا سروے کرنے پہنچیں تو ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں سروے کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی، جس سے افراتفری پھیل گئی۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ نالوں پر دیگر تعمیرات کا بھی سروے کیا جائے۔
افسران کے پہنچنے کی اطلاع پر سماجوادی پارٹی کے شہر صدر عبدالحمید گھوسی، پارٹی کارکنان جس میں انیس احمد نانی والے، عامر عابد،محمد سفیان اوردیگر سماجی کارکنان کے ساتھ موقع پر پہنچے اور نپائی کا کام کرنے آئے افسران کے طریقہ پر اعتراض درج کرایا انکا کہناتھا کہ بغیر کسی اطلاع کے اس طرح پولیس فورس کے ساتھ آنا علاقہ میں لوگوں کو تشویش میں مبتلا کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے مسجد کے ذمہ داران سے بات ہوئی ہے انھوں نے کہا ہے کہ اگر نگر نگم کی زمین کا ایک انچ حصہ بھی ہمارے پاس ہے تو ہم اسکو واپس کرنے کو تیار ہیں لیکن جو سلوک ہمارے ساتھ کیا جارہا ہے وہی دیگر افراد کے ساتھ بھی کیا جائے جو پیمانہ ہمار ے لئے بنایا جائے وہی دیگر جگہوں کے لئے بھی ہو،انھوں نے کہا کہ مسجد سے قبل بنیا پاڑے میں دھرمشالہ کو بھی چھوڑا گیا ہے اس کی بھی نپائی ہونی چاہیے۔اس دوارن ایس ڈی ایم مہیما راجپوت، سرکل آفیسر مینک پاٹھک سمیت دیگر افسران موجود رہے وہیں آر اے ایف کی بھی کمپنی موقع پر موجود رہی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ