
نادر تاریخی نقشوں اور مخطوطات کی بحالی پر پانچ روزہ ورکشاپ کا آغاز
علی گڑھ، 19 جنوری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہیریٹیج سیل اور مولانا آزاد لائبریری کے اشتراک سے تاریخی نقشوں اور مخطوطات کی حفاظت و بحالی سے متعلق پانچ روزہ ورکشاپ مولانا آزاد لائبریری میں شروع ہوئی۔ اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے بحیثیت مہمانِ خصوصی ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اے ایم یو کی تاریخی عمارتیں ادارے کے شاندار ورثے کی زندہ علامت ہیں۔
انہوں نے نہ صرف قدیم عمارتوں کے تحفظ بلکہ مولانا آزاد لائبریری میں محفوظ نادر تاریخی نقشوں، بالخصوص اے ایم یو سے متعلق نقشوں کی حفاظت و مرمت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ سے متعلق بہتر آگہی کے لیے ایک ڈیجیٹل تصویری گیلری قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ مولانا آزاد لائبریری کی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے کہا کہ لائبریری میں مخطوطات اور نقشوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، جن میں سے متعدد کو پہلے ہی محفوظ کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کی حفاظت و بحالی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ شرکاء کے لیے مفید ثابت ہوگی اور قیمتی تعلیمی مواقع فراہم کرے گی۔
اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے کوآرڈینیٹر اور شعبہ سول انجینئرنگ کے استاد پروفیسر صبیح اختر نے ہیریٹیج سیل کی دستیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نے جامع مسجد، سر سید ہال، اسٹریچی ہال اور یونین ہال سمیت یونیورسٹی کی متعدد تاریخی عمارتوں کی کامیاب مرمت اور بحالی کا کام بخوبی کیا ہے۔ ہیریٹیج سیل کے کنوینر پروفیسر ایم فرحان فاضلی نے کہا کہ یہ سیل یونیورسٹی کے ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے دور سے تعلق رکھنے والے تاریخی نقشوں کی حفاظت میں بھی سرگرم عمل ہے۔ شرکاء کا خیرمقدم اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے دیگر کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد خالد حسن نے کیا، جبکہ ڈاکٹر ایس ایم نعمان طارق نے اظہار تشکر کیا۔ افتتاحی پروگرام کی نظامت بی آرک، سالِ اوّل کی طالبہ فاطمہ سعد نے کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ