
سلطان پور، 19 جنوری (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہتک عزت کیس میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو آج اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں ایم پی-ایم ایل اے کی عدالت میں سماعت کے لیے پیش ہونا تھا، لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ اس لیے عدالت نے انہیں آخری موقع دیتے ہوئے 20 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ایم پی راہل گاندھی کے وکیل کاشی شکلا نے پیر کو بتایا کہ راہل گاندھی آج کیرالہ میں ہیں، جس کی وجہ سے وہ یہاں نہیں آسکے۔
ضلع کے کوتوالی دیہات علاقے کے ہنومان گنج کے رہائشی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما وجے مشرا نے اکتوبر 2018 میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگست 2018 میں کرناٹک انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی نے بی جے پی کے اس وقت کے صدر شاہ کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرے کیے تھے۔ سلطان پور کی عدالت میں گزشتہ پانچ برس سے مقدمہ چل رہا ہے۔ راہل گاندھی کے پیش نہ ہونے پر دسمبر 2023 میں اس وقت کے جج نے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔ اس کے بعد، 20 فروری 2024 کو راہل گاندھی نے عدالت میں خود سپردگی کی ، جہاں خصوصی مجسٹریٹ نے انہیں 25-25ہزار روپے کی دو مچلکوںپر ضمانت دے دی۔ اس کے بعد، 26 جولائی، 2024 کو راہل گاندھی نے عدالت میں ایک بیان درج کراتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا اور اس واقعے کو سیاسی سازش قرار دیا۔ راہل گاندھی کے بیان کے بعد عدالت نے مدعی کو ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد سے اس کیس میں مسلسل گواہ پیش کیے جا رہے ہیں۔
مدعی وجے مشرا کے وکیل سنتوش پانڈے کے مطابق گواہ رام چندر دوبے کو 6 جنوری کو پیش کیا گیا۔ وکیل دفاع کی طرف سے ان پر جرح مکمل ہو گئی۔ اب فائل 313 میں عدالت نے آج کے لیے مقرر کی ہے۔ راہل گاندھی کو اب ذاتی طور پر حاضر ہونا پڑے گا، جہاں ان کا 313 کا بیان ریکارڈ ہونا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد