
کپواڑہ میں تعلیمی نظام بری طرح سے متاثر، سیکنڑوں لیکچرار کی اسامیاں خالی
سرینگر، 19 جنوری (ہ س)۔ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے سرکاری ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں لیکچررز کی کمی نے تعلیم کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کپواڑہ ضلع کو ایک گہرے تعلیمی بحران کا سامنا ہے، جس میں سرکاری ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں لیکچرار کی 413 آسامیاں خالی ہیں۔ ڈی ڈی سی کپواڑہ کے چیئرمین عرفان سلطان پنڈت پوری نے بڑی تعداد میں خالی آسامیوں کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ اس مسئلے کو بار بار متعلقہ حکام کے نوٹس میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ مناسب مضمون کے مخصوص لیکچررز کے بغیر، معیاری تعلیم کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا.‘‘ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان آسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل تاخیر طلباء کو تعلیمی اور ذہنی طور پر نقصان اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ والدین اور مقامی لوگوں نے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کمی سے بورڈ کے نتائج اور خاص طور پر دور دراز اور سرحدی علاقوں میں طلباء کے کیریئر کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir