داوس میں ٹیکنالوجی اور اختراعی تعاون پر مدھیہ پردیش اور اسرائیل کے درمیان گفتگو
بھوپال،19جنوری(ہ س)۔ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے دوران داو¿س میں واقع مدھیہ پردیش اسٹیٹ لاو?نج میں مدھیہ پردیش حکومت اور اسرائیل انوویشن اتھارٹی کے درمیان ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس ملاقات میں اسرائیل انوو
داوس میں ٹیکنالوجی اور اختراعی تعاون پر مدھیہ پردیش اور اسرائیل کے درمیان گفتگو


بھوپال،19جنوری(ہ س)۔ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے دوران داو¿س میں واقع مدھیہ پردیش اسٹیٹ لاو?نج میں مدھیہ پردیش حکومت اور اسرائیل انوویشن اتھارٹی کے درمیان ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس ملاقات میں اسرائیل انوویشن اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایلن اسٹوپل کے ساتھ صنعتی پالیسی اور سرمایہ کاری فروغ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر راگھویندر سنگھ نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی کو رفتار دینا اور اختراع کے میدان میں دوطرفہ تعاون کے امکانات تلاش کرنا تھا۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر اسٹوپل نے اسرائیل کے اختراع پر مبنی ترقیاتی ماڈل سے ا?گاہ کیا اور خاص طور پر کوانٹم ٹیکنالوجی، تعلیمی ٹیکنالوجی (ایڈٹیک)، دفاعی ٹیکنالوجی اور ا?بی حل جیسے جدید شعبوں میں اسرائیل کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کا مضبوط تحقیق و ترقی کا نظام نجی شعبے کی فعال شراکت اور مشترکہ سرمایہ کاری کے ماڈل پر قائم ہے، جو سرکاری تعاون کو تجارتی قابلِ عملیت سے جوڑتا ہے۔پرنسپل سکریٹری صنعتی پالیسی اور سرمایہ کاری حوصلہ افزائی مسٹر راگھویندر سنگھ نے مدھیہ پردیش میں سِول ٹیکنالوجی کے شعبے میں حکومت سے حکومت تعاون، پائلٹ منصوبوں اور اسٹارٹ اپ پر مبنی اختراع کو فروغ دینے کے ریاستی عزم سے ا?گاہ کیا۔ انہوں نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان موجودہ تعاون کے فریم ورک کے تحت مشترکہ پائلٹ پروجیکٹس، ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نظام کے ذریعے سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کو ا?گے بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ مدھیہ پردیش اور اسرائیل کے درمیان ٹیکنالوجی پائلٹس، اختراعی شراکت داری اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک باضابطہ تعاون کے ڈھانچے کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔دونوں فریقوں نے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی، پائلٹ منصوبوں کے مواقع اور موزوں ادارہ جاتی نظام تیار کرنے کے لیے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، تاکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اختراعی تعاون کو نئی سمت دی جا سکے اور مدھیہ پردیش کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر قائم کیا جا سکے۔ یہ مکالمہ عالمی اختراعی شراکت داریوں کے ذریعے صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی پر مبنی پائیدار پیش رفت کے لیے مدھیہ پردیش کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande