
گدگ، 19 جنوری (ہ س)۔ کرناٹک کے گدگ ضلع کے تاریخی لکونڈی گاو¿ں میں جاری کھدائی نے تاریخ اور ثقافت کے نئے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ گاو¿ں میں ایک مکان کی بنیاد کھودنے کے دوران خزانہ ملنے کی اطلاعات کے بعد، پچھلے تین دنوں سے کھدائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔اس دوران مندر کے باقیات اور قیمتی قدیم نوادرات ملے ہیں، جس سے ریاست بھر میں تجسس اور دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق، کوٹے ویربھدریشور مندر کے سامنے کھدائی کے دوران،اس کے قریب واقع ایک پرائیویٹ ادارے کے اسکول کو جے سی بی سے ہٹاتے وقت ایک بڑی قدیم قلعہ بندی کی دیوار کا انکشاف ہوا۔ اس دیوار کے اندر دبے نوادرات اور نمونے لکونڈی کی مالا مال فنکارانہ اور ثقافتی ورثے کی تصدیق کرتے ہیں۔
مورخین کا کہنا ہے کہ چلوکیہ، ہویسل اور وجے نگر کے ادوار میں لکونڈی ایک بڑا ثقافتی اور اقتصادی مرکز تھا۔ یہاں سے قدیم سکے بھی ملے ہیں جو اس علاقے میں وسیع پیمانے پر خوشحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کھدائی کی جگہ کا معائنہ کرناٹک محکمہ آثار قدیمہ کے کمشنر اے دیوراجو، ڈائریکٹر شیجیشور اور ضلع کلکٹر سی این سریدھر نے کیا۔
دراصل،لکونڈی میں نوادرات کی دریافت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 91 سالہ توٹئیہ کاشئیہ پتری مٹھ نے گزشتہ برسوں میں پنچ نیل، اندرنیل، نیلم،مرجان، موتی، سونا، ہیرا، زمرد اور کرسٹل کے سکے جمع کیے ہیں۔ برسات کے موسم میں ایسے جواہرات کی تلاش ان کی باقاعدہ سرگرمی بتائی جاتی ہے۔
اسی طرح، ہالگونڈی بسوونا مندر کے قریب زمین پرگزشتہ 40برسوں سے کھوج کر رہے بسپا بڈیگیر نے موتی، مرجان، نیلم، کرسٹل، سفید مرجان، کریپوکا اور سبز جواہرات سمیت متعدد قیمتی اشیاءکو دریافت کرکے انتظامیہ کے حوالے کیا ہے۔ وہ حال ہی میں دریافت ہونے والی اشیاءکو حکومت کے حوالے کرنے کی بھی تیاری کر رہے ہیں۔
لکونڈی کی تاریخی اہمیت
کھدائی کے چوتھے دن کلہاڑی کی شکل کا ایک قدیم آثار تقریباً تین فٹ کی گہرائی سے ملا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سینکڑوں سال پرانا ہے۔ پہلے دن، ایک شیولنگ کا پانی پیٹھ ملا تھا اور اگلے دن، ایک شیولنگ کی باقیات ملی ہیں جس میں ناگن کی شکل تھی۔ لکونڈی گاو¿ں اپنے تقریباً 101 مندروں اور چلوکیہ اور راشٹرکوٹ ادوار سے 101 باولی کے لیے مشہور تھا، جو اس کی تاریخی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے ۔
محکمہ آثار قدیمہ کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ چار سے پانچ فٹ کی گہرائی میں مزید اہم باقیات ملنے کا امکان ہے۔
اسرار اور عقائد
قابل ذکر ہے کہ کھدائی کے دوران قلعہ کی دیوار کے قریب ایک بہت بڑا ناگ نظر آنے سے مزدور خوفزدہ ہوگئے جس سے تقریباً آدھے گھنٹے تک کام روکنا پڑا۔حالانکہ، اماوسیہ کے دن سانپ کے نظر آنے سے گاو¿ں کے اس عقیدے کو مزید تقویت ملی کہ جہاں بھی خزانہ ہوتاہے، وہاں سانپ رہتے ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ لکونڈی میں جاری کھدائی فن، ثقافت اور تاریخ کی ایک بھرپور روایت کو سامنے لا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید قدیمی راز افشا ہونے کا امکان ہے، جس سے یہ خطہ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے اور بھی اہم ہو جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد