
جموں, 19 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے کے سننار گاؤں میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ میں آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کی اضافی نفری کو علاقے میں بھیج کر سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فوج کی ایک ٹیم کو دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ خفیہ اطلاع ملی تھی، جس کے بعد چھاترو کے سننار علاقے کے بالائی حصوں میں تلاشی مہم شروع کی گئی۔ سرچ آپریشن کے دوران ایک مکان کی تلاشی کے وقت پہاڑی علاقوں میں موجود دہشت گردوں نے سیکورٹی اہلکاروں پر دو گرینیڈ پھینکے اور بعد ازاں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کچھ دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
جھڑپ کے بعد فوج، نیم فوجی فورسز، پولیس اور اسپیشل آپریشن گروپ کی اضافی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن مزید وسیع کر دیا گیا۔ رات گئے تک سرچ آپریشن جاری رہا تاہم اندھیرے کے باعث کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی۔ابتدائی فائرنگ اور گرینیڈ حملے میں آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے تین کو ایئر لفٹ کر کے ملٹری اسپتال اُدھمپور منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوج کو اطلاع ملی تھی کہ جیشِ محمد سے وابستہ تین غیر ملکی دہشت گرد سننار علاقے میں موجود ہیں، جس کی بنیاد پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کشتواڑ اور ڈوڈہ اضلاع کے بالائی علاقوں کے علاوہ اُدھمپور اور کٹھوعہ میں بھی غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ملتی رہی ہیں، جہاں سیکورٹی فورسز نے متعدد مرتبہ دہشت گردوں سے رابطے قائم کیے ہیں۔فوج کے نگروٹہ میں قائم وائٹ نائٹ کور نے اس آپریشن کو ’آپریشن ترشی-ایک‘ کا نام دیا ہے، جو دوپہر کے وقت شروع ہوا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر