ڈرینج معائنہ کے دوران بی آر ایس لیڈر پر بی جے پی لیڈروں کا مبینہ حملہ، شکایت درج
حیدرآباد , 19 جنوری (ہ س)۔ گوشہ محل پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع بیگم بازارفش مارکیٹ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ڈرینج کے مسئلہ کا معائنہ کرنے گئے بی آرایس لیڈر پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا، جبکہ پ
ڈرینج معائنہ کے دوران بی آر ایس لیڈر پر بی جے پی لیڈروں کا مبینہ حملہ، شکایت درج


حیدرآباد , 19 جنوری (ہ س)۔ گوشہ محل پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع بیگم بازارفش مارکیٹ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب ڈرینج کے مسئلہ کا معائنہ کرنے گئے بی آرایس لیڈر پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا، جبکہ پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بی آرایس لیڈر آنند کمار گوڑ مقامی افراد کی شکایت پر شدید سیوریج اورڈرینج مسئلہ کا جائزہ لینے بیگم بازار فش مارکیٹ پہنچے تھے۔ اسی دوران مبینہ طور پر بی جے پی رہنماؤں نے ان کے ساتھ بدزبانی کی اورحملہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حملہ گوشہ محل کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے ذاتی معاون کرشنا اوربیگم بازار کے بی جے پی کارپوریٹر و جی ایچ ایم سی بی جے پی فلور لیڈر شنکر یادو کی جانب سے کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بی جے پی رہنماؤں نے آنند کمارگوڑ کی وہاں موجودگی پراعتراض کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ وہ ان کے ڈویژن میں کیوں آئے ہیں۔ بات چیت جلد ہی تلخ کلامی میں بدلی اور پھر معاملہ جسمانی تصادم تک پہنچ گیا۔ حملے کے دوران آنند کمار گوڑ کی آنکھ کے نیچے چوٹ آئی، جس پر وہاں موجود مقامی افراد میں تشویش پھیل گئی۔ واقعہ کے بعد آنند کمار گوڑ نے گوشہ محل پولیس اسٹیشن پہنچ کر شنکریادواورکرشنا کے خلاف حملہ اور بدسلوکی کی شکایت درج کرائی۔ پولیس عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ شکایت موصول ہو گئی ہے اور معاملہ زیرِ جانچ ہے، ابتدائی تفتیش کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعہ کے بعد گوشہ محل حلقہ میں سیاسی تناؤ بڑھ گیا ہے، خاص طورپراس لیے کہ معاملہ ایک مصروف تجارتی علاقے میں سیوریج اور ڈرینج جیسے عوامی مسئلہ سے جڑا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی تنازعات کے بجائے ڈرینج مسئلہ کے حل پر توجہ دی جائے۔ پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر تفتیش کیے جانے کی توقع ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande