
کولکاتا، 19 جنوری (ہ س) ۔
سپریم کورٹ کی جانب سے مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو دی گئی ہدایت کے بعد سیاسی رد عمل میں شدت آگئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے پیر کو کہا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ذریعہ کھیلا جانے والا ’ایس آئی آر کے نام پر کھیل‘ اب ختم ہوچکا ہے۔شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باراسات میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ بی جے پی کو عدالت میں کراری شکست ہوئی ہے اور عوام اسے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی شکست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ترنمول کانگریس کے مطالبے کو قبول کر لیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ جن ووٹروں کے ناموں میں نام نہاد تضادات کی درجہ بندی کی گئی ہے ان کی فہرست کو عام کیا جائے۔ انہوں نے سماعت کے مراکز پر پارٹی کے بوتھ سطح کے نمائندوں کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا۔
ابھیشیک بنرجی کے مطابق، بی جے پی ایک سازش کے تحت تقریباً ایک کروڑ ووٹروں کے ناموں کو حذف کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنگال کے عام لوگوں اور جمہوریت کی جیت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 21 دسمبر کو ترنمول کانگریس کے ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ منطقی تضادات کی پوری فہرست کو عام کیا جائے، لیکن اس وقت الیکشن کمیشن نے اسے قبول نہیں کیا۔بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ بنگال کی سرزمین نے تحریک آزادی اور نشا? ثانیہ کا مشاہدہ کیا ہے اور یہاں کے لوگ اپنے حق رائے دہی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایس آئی آر کا عمل مکمل طور پر شفاف ہو اور عام ووٹروں کو کسی قسم کی تکلیف یا ذہنی دباو¿ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جن ووٹروں کو نوٹس ملے ہیں ان کی فہرستیں پنچایت اور بلاک دفاتر میں لگائی جائیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais