
وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج مشرقی چمپارن ضلع کے موتیہاری کے گاندھی میدان میں سمریدھی یاترا 2026 کے تحت منعقد ’جن سمواد ‘پروگرام میں شامل ہوئےپٹنہ، 17 جنوری(ہ س)۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج مشرقی چمپارن ضلع کے موتیہار واقع گاندھی میدان میں سمریدھی یاترا کے تحت منعقد جن سمواد پروگرام میں شامل ہوئے ، جن سمواد پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ بہار میں 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی موجود ہے اور ہم مستقل طور پر ترقی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ 2005 سے پہلے بہار کی کیا حالت تھی ۔ بہت برا حال تھا شام کے بعد لوگ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماجی میں بہت تنازعہ تھا، ہر روز ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ ہوتا ت ھا۔ تعلیم کا نظام بہت خراب حالت میں تھا۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔ علاج کا مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں ان کا برا حال تھا۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ ہم لوگ شروع سے ہی بہار کے ترقیاتی کاموں میں لگے ہیں۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ پوری ریاست میں محبت، بھائی چارے اور امن کا ماحول ہے۔ ہندو مسلم تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سال 2006 میں، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قبرستانوں کی گھیرا بندی کی جا چکی ہے۔ اب کوئی جھگڑا یا پریشانی نہیں ہے۔سال 2016 کے بعد سے، 60 سال سے زیادہ قدیم ہندو مندروں کوکی گھیرا بندی کی گئی جس کے سبب چوری کے واقعات وغیرہ نہ ہوتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سب سے پہلے، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ہم لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے اسکول کھولے اورکنٹریکٹ اساتذہ کو بحال کیا۔سر کاری اسکول میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے پوشاک اور سائیکل اسکیم چلائی گئی ۔ سال 2023 سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2 لاکھ 58 ہزار سرکاری اساتذہ کی بحالی کی گئی ہے۔ سال 2006 سے، 3 لاکھ 68 ہزارکانٹریکٹ اساتذہ کو بحال کیا گیا، جن میں سے بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 28 ہزار 976 سرکاری اساتذہ بن گئے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ کانٹریکٹ کے اساتذہ کو بی پی ایس سی امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں معمولی امتحان لے کر سرکاری اساتذہ بنایا جائے۔ اس کے لئے انہیں 5 مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 4 امتحانات کئے گئے ہیں، جس میں 2 لاکھ 66 ہزار کانٹریکٹ اساتذہ پاس ہو چکے ہیں۔ اب صرف 73 ہزار باقی ہیں جنہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ اب سرکاری اساتذہ کی کل تعداد 5 لاکھ 24 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ صحت کی خدمات میں بہت بہتری آئی ہے۔پہلے صحت کا نظام بہت خراب تھا، صرف 39 مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ مراکز میں علاج کے لئے آتے تھے یعنی یومیہ 1 یا 2 مریض آتے تھے۔ 2006 کے بعد سے، اسپتالوں میں مفت ادویات اور علاج کے لئے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ اب اوسطا 11 ہزار 600 مریض ہر ماہ پرائمری ہیلتھ سنٹر میں آتے ہیں۔ اس سے قبل بہار میں صرف 6 میڈیکل کالج تھے، جن کی تعداد اب بڑھ کر 12 ہوگئی ہے اور باقی 27 اضلاع میں نئے میڈیکل کالج تعمیر کیے جارہے ہیں، جو جلد ہی مکمل ہوجائیں گے۔ پٹنہ میڈیکل کالج اور اسپتال میں 5 ہزار 400 بیڈ والے اور دیگر 5 قدیم میڈیکل کالج کو ڈھائی ہزار بیڈ کا کیا جارہا ہے ساتھ ہی آئی جی آئی ایم ایس کو 3ہزار بیڈکا بنا یا جار ہا ہے ۔
وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میں بڑے پیمانے پر سڑکیں اور پل پلیا تعمیر کیے گئے ہیں۔ ریاست کے دور دراز علاقوں سے6گھنٹے میں پٹنہ تک پہنچنے کا ہدف سال 2016 میں پورا کر لیا گیا۔ اب ریاست میں بڑی تعداد میں سڑکوں اور پل پلیوں، ریل اوور برج، بائی پاس اور ایلیویٹیڈ سڑکیں تعمیر کی گئیں ہیں، جس سے تقریبا 5 گھنٹوں میں سب سے دو والے علاقوں سے پٹنہ تک پہنچنا ممکن ہوگیا ہے۔ سال 2008 سے،ایگریکلچر روڈ میپ بنا کر کام کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے زراعت کے میدان میں بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ سال 2008 سے 2012 تک پہلا، دوسرا 2012 سے 2017 تک دوسرا، 2017 سے 2023 تک تیسرے ایگریکلچر روڈ میپ کے تحت منصوبہ چلا یا گیا جس کے سبب اناج، پھل، سبزیاں، دودھ، انڈے، گوشت اور مچھلی کی پیداوار میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ مچھلی کی پیداوار میں ڈھائی گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس سے بہار مچھلی کی پیداوار میں خود کفیل بن گیا ہے۔ نیز کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت، چوتھے زرعی روڈ میپ (سال 2024 سے 2029) کے تحت اسکیموں پر تیز رفتار سے کام ہورہا ہے۔ سال 2015 میں، سات نشچے کے تحت، (1) معاشی حل - نوجوانوںبل (2) محفوظ روزگار خواتین کا اختیار (3) ہر گھر میں بجلی، (4) ہر گھر نل کا جل، (5) ہر گھر میں اجابت خانہ (6) ٹولوں کوپکی سڑکوں سے جوڑنا اور (7) مواقع بڑھیں ،آگے پڑھیں ،پر کام کیا گیا ہے۔ سال 20218 میں ہ ی ہر گھر بجلی پہنچادی گئی ہے حکومت کے ذریعہ شروع سے ہی بہت کم شرح پر بجلی دی گئی ہے ۔ اب تقریبا تمام گھریلو صارقین کو بجلی مفت دی جارہی ہے ۔ حکومت کی طرف سے ہر خواہشمند لوگوں کے گھروں پر سولر لگائے جائیں گے ۔ سال2020 کے بعد سے، سات نشچے-2 کے تحت، (1) نوجوانوں کی طاقت - بہار کی ترقی، (2) بااختیار خواتین - قابل خواتین، (3) ہر کھیت تک آبپاشی کا پانی، (4) صاف گاؤں - خوشحال گاؤں (سولر اسٹریٹ لائٹس)، (5) صاف شہر ترقی یافتہ شہر، (6) آسان رابطہ، (7) سب کے لیے طبی سہولت (ٹیلی میڈیسن اور چائلڈ ہارٹ اسکیم)تمام پر بہت کام ہوا ہے۔ سات نشچے-2 کے تحت کوئی بھی باقی ہیںانہیں جلد مکمل کیا جائے گا۔ سات نشچے 2 کے تحت ہی نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں اور 40 لاکھ کو روزگار دیاجا چکا ہے۔ مجموعی طور پر 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ حکومت نے اپنے آغاز سے ہی سماجی کے تمام طبقات کی ترقی کی حمایت کی ہے۔ ہندو، مسلم، اونچی ذات، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت یا مہادلیت سبھی کے لیے کام کیا گیا ہے۔ ہم نے مسلم کمیونٹی کے لیے بھی کافی کام کیا ہے۔ مدارس کو سرکاری منظوری دی گئی ہے، اور ان کے اساتذہ کو دیگر سرکاری اساتذہ کے برابر تنخواہ دی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام بزرگوں، معذوروں اور بیوہ خواتین کے لیے پنشن کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی ہے جس سے 1کروڑ 14 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ 2023 میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی گئی جس میں لوگوں کی معاشی حالت کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی گئیں۔ اس میں 94 لاکھ غریب خاندانوں کا انکشاف ہوا، جن میں اعلیٰ ذات، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت، مہادلیت، اور مسلم کمیونٹیز شامل ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے 2 لاکھ روپے کی روزگار امداد شروع کی گئی تھی اور یہ امداد پانچ برسوں میں تمام لوگوں کو دینی تھی۔ اب ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ ان تمام 94 لاکھ غریب خاندانوں کو ترجیح کی بنیاد پر روزگار منصوبوں سے جوڑکر رقم دی جائے گی۔ضرورت ہو گی تو تو 2 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم بھی فراہم کی جائے گی۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan