
ممبئی، 17 جنوری (ہ س) کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے حالیہ تجربے نے انتخابی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات آئندہ بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات میں شہری علاقوں میں ووٹنگ کی شرح تشویشناک حد تک کم رہی، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال محض لاپروائی نہیں بلکہ نظام پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی متعدد ریاستوں نے مقامی بلدیاتی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور انتخابی تنازعات سے بچا جا سکے۔ اس تناظر میں مہاراشٹر میں ای وی ایم پر اصرار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
نانا پٹولے نے بتایا کہ انہوں نے ریاستی چیف الیکشن کمشنر اور وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر ووٹر لسٹوں میں گڑبڑی، پولنگ مراکز کے بارے میں ابہام، ووٹروں کو گھنٹوں انتظار اور بغیر ووٹ ڈالے واپس لوٹنے جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی کہ بلدیاتی انتخابات میں وی وی پی اے ٹی نظام استعمال نہیں کیا گیا، جس سے ووٹروں کو اپنے ووٹ کی تصدیق کا حق نہیں مل سکا۔ مزید برآں، انگلی پر لگائی گئی سیاہی کا دھل جانا انتخابی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا معاملہ ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ ان تمام بے ضابطگیوں کے باعث انتخابی شفافیت اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات جمہوری نظام کی بنیاد ہیں اور انہیں ایسے طریقے سے کرایا جانا چاہیے جس پر کسی کو شبہ نہ ہو۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے