عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے اسٹال پرجتنے دور اتنے پاس کتاب پر مذاکرہ
۔ مادری زبان میں قومی تعلیمی پالیسی2020اور اردو کے فروغ میں تھیٹر کا کردارکے عنوانات سے مذاکرے
عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے اسٹال پرجتنے دور اتنے پاس کتاب پر مذاکرہ


نئی دہلی: 17 جنوری ( ہ س ) ۔ قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عالمی کتاب میلے میں آج تین مذاکرے منعقد ہوئے۔ پہلا پروگرام‘جتنے دور اتنے پاس ’نامی کتاب پر مذاکرہ تھا۔ اس کتاب کے مصنف دھریندرسنگھ جفا ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب انگریزی میں Death wasn’t painfull کے نام سے تحریر کی تھی۔جس کا اردو ترجمہ جناب شاہد جمیل نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان 1971 میں ہونے والی کشمکش اور ہندوستان کی مداخلت کے واقعات ایک فائٹر پائلٹ کی زبانی بیان کیے گئے ہیں۔ اس مذاکرے میں بحیثیت پینلسٹ جناب کرنل طاہر مصطفی اور جناب سرت جفا شریک ہوئے جب کہ اس پروگرام کو ڈاکٹر فیضان الحق نے موڈریٹ کیا۔ جناب کرنل طاہر مصطفی نے ملک کی سرحد کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کے جذبے اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کا خصوصی ذکر کیا۔ فوج سے متعلق عالمی کتاب میلے کا تھیم منتخب کرنے کے لیے انھوں نے این بی ٹی انڈیا کو مبارکباد پیش کی۔انھوں نے زبان کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو اس علاقے کی زبان ضرور جاننی چاہیے جہاں وہ ڈیوٹی کررہے ہیں۔ اس کے بغیر وہاں کے لوگوں سے کمیونی کیٹ کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔

دوسرے پینلسٹ اور کتاب کے مصنف جناب دھیریندر سنگھ جفا کے صاحب زادے جناب سرت جفا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کتابوں کی اشاعت کے لیے قومی اردو کونسل قابل مبارکباد ہے۔یہ کتاب فوج کے وقار اور اپنے ملک ہندوستان کو جاننے اور سمجھنے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس طرح کی کتابوں سے ملک کی یوا پیڑھی کو ہندوستان کی فوجی طاقت اور عظمت کا بخوبی علم ہوگا۔ اس کتاب کے حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ چونکہ میرے والد ہندوستان۔پاکستان کی جنگ میں شامل تھے اور بطور فائٹر پائلٹ اس کا حصہ رہنے کے سبب قیدی بھی بنے تھے، کتاب میں انھوں نے اس سے متعلق اپنے تجربات اور خیالات تحریر کیے ہیں۔ مزید انھوں نے ہندوستانی زبانوں? کی اہمیت پر بھی واضح انداز میں بات کی۔ انھوں نے کتاب کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ اس کے مطالعے سے فوجیوں کے مابین انسان دوستی اور ہمدردی کے جذبات کا بھی علم ہوتا ہے۔

دوسرا مذاکرہ‘ مادری زبان اور قومی تعلیمی پالیسی 2020’کے موضوع پر منعقد ہوا جس میں پروفیسر عذرا عابدی، پروفیسر جسیم احمد اور ڈاکٹر سید مبین زہرا بطور پینلسٹ شامل ہوئے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہد حبیب فلاحی نے انجام دیے۔ اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر عذرا عابدی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 پر گفتگو کے لیے یہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ مادری زبان میں تدریس وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ ان بچوں کے لیے بہت اہم ہے جو پچھڑے علاقوں میں رہتے ہیں۔ لسانی تنوع کے لحاظ سے ہندوستان ایک مثالی ملک ہے۔ یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنے گھروں میں مادری زبان کی طرف بچوں کی توجہ دلائیں۔ پروفیسر جسیم احمد نے کہا کہ تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اسی لیے حکومت ہند نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں اس پر خاص دھیان دیا ہے۔ بچوں کو پانچویں کلاس تک اور اگر ممکن ہو تو آٹھویں تک بھی مادری زبان میں تعلیم ضرور دی جائے۔ اس کے بعد ہائر ایجوکیشن کو بھی مادری زبان سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی بچوں کو وہ زبان بھی سیکھنا چاہئے جس میں روزگار کے مواقع زیادہ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں مادری اور قومی زبان میں موازنے سے بچنا چاہیے۔ دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ ڈاکٹر سید مبین زہرا نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔ بچہ اس زبان کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتا ہے جو وہ ماں سے سنتا ہے۔ مادری زبان کی وجہ سے حاشیائی علاقوں میں تعلیم کی شرح بڑھی ہے۔ ہم ایجوکیشنسٹ کی ذمے داری ہے کہ ہم سبھی علاقوں کے بچوں کی ذمے داری کو سمجھیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کو فروغ دینے کے لیے گھر سے شروعات کرنی ہوگی، سرکار کا کام صرف پالیسی بنانا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سیلف لرننگ کو پرموٹ کرنے پر بھی زور دیا۔

تیسرا مذاکرہ‘اردو کے فروغ میں تھیٹر کا کردار’کے موضوع پر منعقد ہوا جس میں بحیثیت پینلسٹ جناب ایڈوکیٹ اے رحمن، پروفیسر محمد کاظم، پروفیسر دانش اقبال شامل ہوئے۔ مذاکرے کی نظامت جناب تحسین منور نے کی۔ جناب پروفیسر محمد کاظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو ڈرامے کی اصل شروعات شمالی ہند میں امانت کے اندرسبھا سے ہوئی۔ تھیٹر اور اردو لازم ملزوم ہیں۔ ڈرامہ واحد ایسی صنف ہے جو خواندہ اور ناخواندہ دونوں طبقے تک اردو زبان کی رسائی کو ممکن بناتی ہے۔ مذاکرے کے دوسرے پینلسٹ جناب ایڈوکیٹ اے رحمن نے کہا کہ ڈراموں کی وجہ سے زبان ترقی کرتی ہے ہے۔ اردو زبان میں اچھی تعداد میں ڈرامے موجود ہیں اور ڈراموں کے ان کا تھیٹر پر پیش کیا جانا ضروری ہے۔ لوگ ادب عالیہ کی بات کرتے ہوئے ڈرامے سے گریز کرتے ہیں، جو درست نہیں۔ تیسرے پینلسٹ پروفیسر دانش اقبال نے ریڈیو ڈرامے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رفیع پیر کا اس حوالے سے بہت اہم کام ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دلچسپیوں اور کوششوں کے سبب ان کے بہت سے شاگردوں نے بھی اس بابت قابل ذکر خدمات انجام دی ہیں۔ چوتھے پینلسٹ جناب جاوید حسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کے فروغ میں اردو کا بہت اہم کردار ہے۔ مثلاً اگر غالب یا میر پر کوئی ڈراما تحریر کیا جائے تو ظاہر ہیکہ اس میں اردو الفاظ ہی استعمال ہوں گے۔ انھوں نے ریڈیو کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو ڈراما ایک طرح سے اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande