گھنے کوہرے کے باعث دہلی میں پروازوں میں تاخیر، 177 ٹرینیں تاخیر کا شکار
گھنے کوہرے کے باعث دہلی میں پروازوں میں تاخیر، 177 ٹرینیں تاخیر کا شکار نئی دہلی، 17 جنوری (ہ س)۔ شمالی ہند میں جاری سرد لہر کے باعث ہفتہ کی صبح قومی دارالحکومت نئی دہلی کے بڑے حصے میں چھائے گھنے کوہرے نے ریل اور ہوائی آمد و رفت کو شدید طور پر مت
آئی جی آئی ایئرپورٹ پر کم حد نگاہ سے پروازوں میں تاخیر کی علامتی تصویر


گھنے کوہرے کے باعث دہلی میں پروازوں میں تاخیر، 177 ٹرینیں تاخیر کا شکار

نئی دہلی، 17 جنوری (ہ س)۔ شمالی ہند میں جاری سرد لہر کے باعث ہفتہ کی صبح قومی دارالحکومت نئی دہلی کے بڑے حصے میں چھائے گھنے کوہرے نے ریل اور ہوائی آمد و رفت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ اندرا گاندھی انٹرنیشنل (آئی جی آئی) ایئرپورٹ پر حد نگاہ کم ہونے سے کئی پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ وہیں، کوہرے اور کم حد نگاہ کے باعث کل 177 ٹرینیں تاخیر سے چل رہی ہیں۔

دہلی ایئرپورٹ نے صبح پروازوں کو آپریشن میں تاخیر کے حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں سے کہا ہے کہ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایئرپورٹ جانے سے پہلے اپنی اپنی ایئر لائنز سے پرواز کی صورتحال معلوم کر لیں، کیونکہ کوہرے کی وجہ سے آپریشن پر وقفے وقفے سے اثر پڑ سکتا ہے۔

ریلوے کی ٹرین رننگ لسٹ سے حاصل معلومات کے مطابق کئی ٹرینیں دو سے 8 گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہیں۔ دہلی-این سی آر میں حد نگاہ کم ہونے کے سبب دہلی آنے جانے والی سبھی اہم ٹرینوں پر اثر پڑا ہے۔ پریاگ راج، لکھنو، کانپور، غازی آباد، میرٹھ، آگرہ اور جھانسی ڈویژن کی ٹرینوں میں بھاری تاخیر درج کی گئی۔ ریل حکام کے مطابق کوہرے کی وجہ سے سگنلنگ اور مقام کی شناخت متاثر ہونے سے ٹرینیں کنٹرولڈ رفتار سے چل رہی ہیں۔

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے سرد لہر اور گھنے کوہرے کے لیے ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔ حالانکہ، آئی ایم ڈی نے بتایا کہ کم از کم درجہ حرارت میں تھوڑی بہتری ہوئی ہے، جو 16 جنوری کو 4 ڈگری سیلسیس تھا، وہ 17 جنوری کی صبح 7 ڈگری سیلسیس ہو گیا۔ دریں اثنا، دہلی کی آب و ہوا کا معیار ایک بڑی تشویش بنا ہوا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے اعداد و شمار کے مطابق قومی دارالحکومت میں صبح قریب 7 بجے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 368 تھا، جو اسے ’’انتہائی خراب‘‘ زمرے میں رکھتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande