وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے یونین کاربائیڈ فیکٹری احاطے کا معائنہ کیا
بھوپال، 17 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ہماری حکومت نے بھوپال گیس سانحہ کے بعد پڑے کیمیائی فضلے کو کامیابی کے ساتھ تلف کر دیا ہے۔ اب فیکٹری احاطے کی مناسب ترقی کے لیے کام کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہ
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے یونین کاربائیڈ فیکٹری احاطے کا معائنہ کیا۔


وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے عارف نگر میں اسکولی بچوں کے ساتھ سیلفی لی


بھوپال، 17 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ہماری حکومت نے بھوپال گیس سانحہ کے بعد پڑے کیمیائی فضلے کو کامیابی کے ساتھ تلف کر دیا ہے۔ اب فیکٹری احاطے کی مناسب ترقی کے لیے کام کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہفتہ کو بھوپال کے عارف نگر واقع یونین کاربائیڈ فیکٹری احاطے کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بھوپال گیس سانحہ راحت اور باز آبادکاری محکمے کے افسران سے اس احاطے میں یادگار کی تعمیر کے سلسلے میں معلومات حاصل کیں۔ اس دوران سکریٹری وزیر اعلیٰ آفس آلوک کمار سنگھ، کمشنر رابطہ عامہ دیپک کمار سکسینہ، ڈائریکٹر گیس راحت سوتنتتر کمار سنگھ، میونسپل کمشنر سنسکرتی جین اور گیس سانحہ راحت محکمے کے سینئر افسران موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ 2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات بھوپال میں میتھائل آئسوسائینائٹ (ایم آئی سی) گیس کا رساو ایک ہولناک حادثہ تھا۔ حادثے میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔ قریب 40 سال تک کیمیائی فضلہ یہاں پڑا رہا۔ ہماری حکومت نے معزز ہائی کورٹ کی رہنمائی میں بغیر کسی ماحولیاتی نقصان اور انسانی جان کے زیاں کے یہاں کے کیمیائی فضلے کو کامیابی کے ساتھ تلف کروایا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اب ہم سماج کے سبھی طبقات اور متاثرہ فریقین کو اعتماد میں لے کر یونین کاربائیڈ احاطے کی ترقی کریں گے اور معزز ہائی کورٹ کی رہنمائی میں اب پاک صاف ہو چکے اس احاطے میں بھوپال گیس سانحہ میں فوت ہونے والے افراد کی یاد میں ایک یادگار بنائیں گے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت سبھی گیس متاثرین کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ متاثرین کی بہبود میں ہم کوئی کمی نہیں رکھیں گے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یونین کاربائیڈ انڈیا لمیٹڈ فیکٹری احاطے میں پڑے کیمیائی فضلے کو معزز ہائی کورٹ کی رہنمائی میں مناسب طریقے سے تلف کیا جا چکا ہے۔ اب ہم بھوپال میٹروپولیٹن ایریا کی تعمیر کے ساتھ اس احاطے کی بھی مناسب ترقی کے لیے سبھی ضروری انتظامات کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو مدھیہ پردیش کے پہلے ایسے وزیر اعلیٰ ہیں، جو یونین کاربائیڈ فیکٹری احاطے میں بغیر کسی سیفٹی ماسک کے گئے اور فیکٹری کے کور ایریا کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

معائنے کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بھوپال واقع یونین کاربائیڈ کارخانے سے زہریلی گیس کا رساؤ مدھیہ پردیش کی ہی نہیں، ملک کا سب سے ہولناک گیس سانحہ تھا۔ سال 1984 میں 2 اور 3 دسمبر کی رات اس فیکٹری سے گیس کے مضر اثرات کے سبب بھوپال نے موت کا جو منظر دیکھا، وہ ہماری یادوں سے کبھی محو نہیں ہوگا۔ گیس سانحہ کے بعد اس وقت کی حکومت نے اس علاقے کو لاوارث چھوڑ کر بڑی لاپرواہی کی۔ انہوں نے فیکٹری میں پھیلے زہریلے فضلے کو ہٹانے کے لیے کوئی فیصلہ نہیں لیا اور اس ہولناک سانحہ کے بعد فیکٹری کو بند کر دیا گیا۔ اس وقت کی حکومت کے ذمہ داران نے فیکٹری کے مالک وارین اینڈرسن کو یہاں سے فرار ہونے میں مدد کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مرکز میں یو پی اے حکومت رہتے ہوئے بھی اس گیس متاثرہ علاقے کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اب ہماری حکومت نے عدالت کی سبھی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ سال یونین کاربائیڈ کے زہریلے فضلے کو تلف کرایا۔ یہ دنیا کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ کس طرح جدید سائنسی طریقوں سے زہریلے فضلے کو بغیر ماحولیاتی/انسانی نقصان کے ختم کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت نے دارالحکومت کی پیشانی سے اس داغ کو مٹانے کا کام کیا ہے۔ اس کے لیے گیس راحت محکمہ سمیت سبھی متعلقہ متاثرہ فریقین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ شہری ترقی اور گڈ گورننس (نظم و نسق) کے انتظامات قائم کرنے کے لیے مدھیہ پردیش حکومت، مرکزی حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے۔ اب ہماری حکومت معزز عدالت کی رہنمائی میں احاطے میں یادگار بنانے سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے تجاویز پر عمل کرے گی۔ اس میں سبھی فریقین کو گفتگو کر کے اعتماد میں لیا جائے گا۔

یونین کاربائیڈ فیکٹری احاطے کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد لوٹتے وقت وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کو عارف نگر میں پوجا کر رہی ایک خاتون نے روکا۔ خاتون کی درخواست پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اپنا قافلہ رکوایا۔ وزیر اعلیٰ سے خاتون نے درخواست کی کہ بھگوان بھولے ناتھ کو 2 اگر بتی لگا دیجیے۔ خاتون نے اگر بتی جلا کر وزیر اعلیٰ کو دی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مورتی پر خاتون کے اصرار پر اگر بتی لگا کر بھولے ناتھ کا آشیرواد لیا۔ انہوں نے یہاں مقامی خواتین سے اپنائیت سے پوچھا کہ سب ٹھیک ہے، لاڈلی بہنا کے پیسے مل رہے ہیں؟ اس پر لاڈلی بہنوں نے کہا کہ ہاں، انہیں ہر مہینے 1500 روپے مل رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اسکول جا رہے بچوں سے بھی بات چیت کی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اسکولی بچوں کے ساتھ خود سیلفی لے کر ان سب کو خوش کر دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande