
نئی دہلی، 16 جنوری (ہ س)۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے لال قلعہ دھماکے کے سلسلے میں الفلاح یونیورسٹی کے بانی جاوید احمد صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف ساکیت کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔
ای ڈی نے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی طرف سے درج دو ایف آئی آر کے بعد اپنی جانچ شروع کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ الفلاح یونیورسٹی نے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے اے سی) سے ایکریڈیشن حاصل کرنے کی جھوٹی اطلاع دی۔ ای ڈی نے کہا کہ اس نے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت الفلاح یونیورسٹی کے اثاثوں کو غیر رسمی طور پر ضبط کر لیا ہے۔
جاوید احمد صدیقی کو ای ڈی نے 18 نومبر 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی لال قلعہ دھماکے کے بعد سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہے۔ لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق پایا گیا جس کے بعد یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ای ڈی نے جاوید کو دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے قریب ایک i-10 کار میں دھماکہ ہوا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے نام پر تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ