
ناگپور، 16 جنوری (ہ س)۔ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران ناگپور میونسپل کارپوریشن کے نتائج نے سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی ہے۔ 38 وارڈز پر مشتمل 151 نشستوں والی اس کارپوریشن میں ابتدائی رجحانات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی واضح سبقت حاصل کرتی نظر آ رہی ہے، جبکہ کانگریس کو سخت مقابلے کے باوجود خاطر خواہ کامیابی نہیں مل پا رہی۔ووٹوں کی گنتی میں سامنے آنے والے رجحانات کے مطابق بی جے پی، جو شیو سینا (شندے دھڑا) اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکمراں مہایوتی اتحاد کا حصہ ہے، شہر میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔ اس کے برعکس کانگریس پیچھے چل رہی ہے، جبکہ مہا وکاس اگھاڑی کی دیگر جماعتیں اب تک دوہرے ہندسوں میں بھی داخل نہیں ہو سکیں۔بلدیاتی انتخابات جمعرات کو منعقد ہوئے تھے، جن میں ناگپور میں مجموعی طور پر 51 فیصد ووٹروں نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس انتخابی عمل میں کئی سرکردہ شخصیات نے ووٹنگ کی، جن میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت شامل ہیں، جس کے باعث ناگپور کے نتائج کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔سیٹوں کی تقسیم کے اعتبار سے بی جے پی نے 151 میں سے 143 نشستوں پر امیدوار میدان میں اتارے تھے، جبکہ اس کی اتحادی شیو سینا (شندے دھڑا) نے 8 نشستوں پر مقابلہ کیا۔ کانگریس نے تمام 151 نشستوں پر اکیلے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ابتدائی رجحانات اس کے حق میں جاتے دکھائی نہیں دے رہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ناگپور کو آر ایس ایس کا روایتی مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کے نتائج نہ صرف بلدیاتی سیاست بلکہ ریاستی سیاست کے لیے بھی اہم اشارے دے سکتے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور حتمی نتائج کے ساتھ ہی ناگپور کی بلدیاتی سیاست کی آئندہ سمت واضح ہو جائے گی۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے