امریکہ نے 75 ملکوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کے عمل پر پابندی عائد کی
امریکہ نے 75 ملکوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کے عمل پر پابندی عائد کی واشنگٹن، 15 جنوری (ہ س)۔ امریکی انتظامیہ نے 75 ملکوں کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا (مستقل رہائش) کے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے اہم وجہ یہ بتائی
امریکہ نے 75 ملکوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کے عمل پر پابندی عائد کی


امریکہ نے 75 ملکوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کے عمل پر پابندی عائد کی

واشنگٹن، 15 جنوری (ہ س)۔ امریکی انتظامیہ نے 75 ملکوں کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا (مستقل رہائش) کے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے اہم وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کچھ درخواست گزار ’’پبلک چارج‘‘ بن سکتے ہیں اور امریکی فلاحی اسکیموں کا فائدہ اٹھا کر ملک پر بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ 21 جنوری سے موثر ہوگا۔ امریکی قونصلر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ویزا کے عمل کو تب تک ملتوی رکھیں جب تک کہ محکمہ موجودہ امیگریشن قانون کے تحت اسکریننگ اور ویری فکیشن کے عمل کا ازسرنو جائزہ نہیں لے لیتا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا، ’’امریکہ کے امیگریشن نظام کا غلط استعمال روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ جو لوگ امریکی عوام کی دریا دلی کا فائدہ اٹھا کر فلاحی اسکیموں پر منحصر ہوں گے، انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

ذرائع کے مطابق، اس فیصلے سے افریقہ، ایشیا، مشرق وسطیٰ، کیریبین، یورپ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں پر اثر پڑے گا۔ جن ملکوں کے ویزا متاثر ہوں گے، ان میں صومالیہ، روس، ایران، افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نائجیریا، مصر، تھائی لینڈ اور برازیل شامل ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ اس پابندی کے دوران صرف بہت محدود استثنیٰ ہی قابل قبول ہوں گے اور انہیں صرف تب زیر غور لایا جائے گا جب درخواست گزار پبلک چارج سے متعلق سبھی شبہات کو دور کر لیں۔

امیگرنٹ ویزا فیملی کی بنیاد پر گرین کارڈ، روزگار پر مبنی زمروں اور انسانی تحفظ سے متعلق ہوتے ہیں۔ وہیں، نان امیگرنٹ ویزا عارضی ہوتے ہیں اور ان میں سیاحت، کاروبار، تعلیم، قلیل مدتی روزگار، سرمایہ کاری اور سفارتی یا میڈیا کے کام شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande