
نئی دہلی، 15 جنوری (ہ س): لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ اخلاقی مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ایک قابل اعتماد، شفاف اور جوابدہ سوشل میڈیا فریم ورک کی تخلیق جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اے آئی اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال غلط معلومات، سائبر کرائم اور سماجی پولرائزیشن جیسے سنگین چیلنجز کو جنم دے رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے دنیا کی مقننہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
جمعرات کو ایوانِ دستور کے سنٹرل ہال میں 28ویں کامن ویلتھ اسپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، برلا نے کہا کہ اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے جمہوری اداروں کی کارکردگی اور تاثیر کو بڑھایا ہے۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ اور مقننہ کو پیپر لیس بنانے اور انہیں ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے مربوط کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور حکومت کی مشترکہ کوششوں سے فرسودہ اور غیر متعلقہ قوانین کو ہٹا کر نئے عوامی فلاح و بہبود کے قوانین بنائے گئے ہیں۔ یہ اصلاحات ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ اور خود انحصار ملک بننے کے ہدف کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ برلا نے کہا کہ عوام کی نظروں میں پارلیمانی اداروں کے وقار، ساکھ اور بالادستی کو برقرار رکھنا تمام جمہوری اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ کانفرنس میں ہونے والی بات چیت سے عالمی چیلنجوں کا اجتماعی حل نکلے گا اور جمہوری اداروں پر شہریوں کا اعتماد گہرا ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ دولت مشترکہ کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس میں 53 خودمختار ممالک کی قومی پارلیمانوں کے اسپیکر اور پریزائیڈنگ آفیسرز شرکت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 14 نیم خودمختار پارلیمانوں کے پریزائیڈنگ افسران، کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اور دیگر حکام بھی بطور نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
اس کے مکمل اجلاسوں میں متعدد موضوعات پر غور کیا جائے گا، جن میں پارلیمنٹ میں اے آئی کے استعمال میں جدت، نگرانی اور موافقت کے درمیان توازن قائم کرنا، اراکین پارلیمنٹ پر سوشل میڈیا کے اثرات، پارلیمنٹ کے بارے میں عوام کی سمجھ کو بڑھانے کے لیے اختراعی حکمت عملی اور ووٹنگ کے بعد بھی شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانا، پارلیمنٹ کے افسران کی حفاظت اور اراکین کی صحت اور کردار کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔ تین روزہ کانفرنس 16 جنوری تک جاری رہے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی