ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
تہران ،15جنوری (ہ س )۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔احتجاج کے دوران پر تشدد مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کی کارروائی کو دنیا بھر میںدکھایا گیا ہے جس کے تحت مظاہرے میں شامل افراد کے خلاف سخت ترین سزا دینے کی خ
ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں: ایرانی وزیر خارجہ


تہران ،15جنوری (ہ س )۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔احتجاج کے دوران پر تشدد مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کی کارروائی کو دنیا بھر میںدکھایا گیا ہے جس کے تحت مظاہرے میں شامل افراد کے خلاف سخت ترین سزا دینے کی خبریں بھی منظر عام پر آئی تھی ۔ دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ نے وضاحت کی ہے اور صورتحال پر قابو پانے کا دعویٰ کیا ہے ۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ باتیں انہوں نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے، صورت حال مکمل قابو میں ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، داعش طرز کی دہشت گرد کارروائیاں کیں اور پولیس اہل کاروں کو زندہ جلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، یہ معلومات دوسری طرف کے بہت اہم ذرائع سے موصول ہوئی ہیں کہ ہلاکتیں رک گئی ہیں اور پھانسیاں نہیں ہوں گی۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کا حکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande