
ممبئی، 15 جنوری (ہ س)۔ مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے دوران ووٹروں کی انگلیوں پر لگائی جانے والی مارکر سیاہی کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کا گمراہ کن بیانیہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے کہا کہ ووٹنگ کے عمل کے دوران سیاہی کو مٹانے کی کوشش کرنا اور اس کے ذریعے دوبارہ ووٹ ڈالنے کا تاثر دینا قانوناً جرم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص ایسی حرکت کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔دنیش واگھمارے کے مطابق کورس کمپنی کے مارکر پین گزشتہ کئی برسوں سے استعمال کیے جا رہے ہیں اور ان میں موجود سیاہی کی کیمیائی ساخت مکمل طور پر درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاہی مٹانے کی کسی بھی مبینہ کوشش کے باوجود ووٹر دوبارہ ووٹ نہیں ڈال سکتا، کیونکہ ووٹنگ کے بعد ہر ووٹر کا اندراج سرکاری ریکارڈ میں درج کر لیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ انتخابی نظام میں پہلے ہی ایسے حفاظتی انتظامات موجود ہیں جو کسی بھی شخص کو دوبارہ ووٹ ڈالنے سے روکتے ہیں، اس لیے صرف انگلی سے سیاہی ہٹانے سے ووٹنگ ممکن نہیں ہو سکتی۔ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ نے 19 نومبر 2011 اور 28 نومبر 2011 کو مارکر پین کے استعمال سے متعلق واضح رہنما خطوط جاری کیے تھے، جن کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات میں ووٹروں کی انگلیوں پر سیاہی لگائی جاتی ہے۔ان ہدایات کے تحت ووٹر کے ناخن اور ناخن کے اوپر کی جلد پر مارکر پین سے تین سے چار مرتبہ سیاہی لگانا لازمی ہے۔ دنیش واگھمارے نے کہا کہ یہ تمام ہدایات پہلے سے نافذ ہیں اور ان کا ذکر خود مارکر پین پر بھی درج ہوتا ہے، تاکہ انتخابی عمل شفاف اور بلا شبہ رہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے