ووٹنگ میں مارکر پین پر تنازع شدت اختیار کر گیا , حکمراں اور اپوزیشن آمنے سامنے , الیکشن کمیشن نے شکایات کی جانچ کا اعلان کیا
ممبئی، 15 جنوری (ہ س) ۔ مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ووٹروں کی انگلیوں پر لگائی جانے والی سیاہی کو لے کر سیاسی محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ روایتی ان مٹ سیاہی کے بجائے مارکر پین کے استعمال پر اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھاتے ہوئے اسے
ELECTION MAHA INDELIBLE INK DISPUTE


ممبئی، 15 جنوری (ہ س) ۔ مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے دوران ووٹروں کی انگلیوں پر لگائی جانے والی سیاہی کو لے کر سیاسی محاذ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ روایتی ان مٹ سیاہی کے بجائے مارکر پین کے استعمال پر اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھاتے ہوئے اسے ووٹ چوری اور فرضی ووٹنگ کا ذریعہ قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی نے ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن بتایا ہے۔ریاستی الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ویڈیوز کی جانچ کی جائے گی اور اگر کوئی ویڈیو فرضی ثابت ہوئی تو متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے کہا کہ سیاہی مٹنے سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان کی باضابطہ تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن گزشتہ دس برسوں سے اسی نوعیت کی سیاہی استعمال کر رہا ہے اور عام حالات میں یہ مٹنے والی نہیں ہے۔ ان کے مطابق سال 2010 سے مارکر پین کے ذریعے ہی ووٹروں کی شناخت کی جا رہی ہے۔اس تنازع پر شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ این سی پی (شرد پوار دھڑا) کے قومی ترجمان کلائیڈ کراستو نے کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ممبئی کے ووٹروں کو اس نااہلی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں نام نہ ملنا اور مارکر پین کا استعمال کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالنے کے بعد لگائی جانے والی سیاہی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی انگلی پر لگی سیاہی کو رگڑ کر دکھایا اور کہا کہ عام حالات میں یہ مٹ نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہیں کوئی شکایت درست پائی جاتی ہے تو الیکشن کمیشن کو اس پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ مکمل طور پر کمیشن کے دائرے میں آتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande