
نئی دہلی، 15 جنوری (ہ س)۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے دولتِ مشترکہ کے ممالک کے پارلیمانی اسپیکروں اور پریزائڈنگ افسران کی 28ویں کانفرنس کے دوران آسٹریلیا اور بوتسوانا کے پارلیمانی قائدین سے ہونے والی ملاقاتوں کو جمہوری مکالمے اور بین الپارلیمانی تعاون کو مضبوط بنانے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ جمہوری اقدار، پارلیمانی تبادلے اور عوامی سطح پر روابط کو گہرا کرنا بھارت کی ترجیح ہے۔
اوم برلا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں آسٹریلیا کے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے اسپیکر ملٹن ڈک سے گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے اسے بھارت–آسٹریلیا شراکت داری کی مضبوطی کی علامت بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکالمہ مشترکہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی تعاون پر مبنی بھارت–آسٹریلیا شراکت داری کی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ممالک ادارہ جاتی روابط، پارلیمانی تبادلوں اور عوامی سطح کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ایک دوسری پوسٹ میں اوم برلا نے بوتسوانا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر دِتھا پِیلو لیفوکو کیوراپیٹسے سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس جمہوری مکالمے، باہمی اعتماد اور بین الپارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے نوجوان اسپیکر کے طور پر کیوراپیٹسے کی قیادت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی اداروں کی وقار، خودمختاری، شفافیت اور شمولیت کو برقرار رکھنے میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 28ویں کانفرنس میں دولتِ مشترکہ کے 53 خودمختار ممالک اور 14 نیم خودمختار پارلیمانوں کے پریزائڈنگ افسران شریک ہو رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں مجموعی طور پر 61 افسران حصہ لے رہے ہیں، جن میں 45 اسپیکر اور 16 ڈپٹی اسپیکرشامل ہیں۔ کانفرنس کا اختتام جمعہ کو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خطاب کے ساتھ ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد