
ساگر، 14 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع سے پولیس محکمے کا ایک بیحد ہی دلچسپ اور سخت پیغام دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو اپنے سینئر افسر کے فرضی دستخط کرنا اتنا بھاری پڑا کہ انہیں اپنی وردی کے ’ستارے‘ گنوانے پڑے۔ برخاستگی کے دہانے سے لوٹ کر آئے اس افسر کو اب اپنے ہی سابق ماتحتوں کے ساتھ کانسٹبل بن کر ڈیوٹی کرنی ہوگی۔ یہ معاملہ ساگر ضلع کی بہرول تھانے کی سیسئی چوکی کا ہے۔ اس وقت کے چوکی انچارج اے ایس آئی رام جی سنگھ راجپوت ایک مرگ (موت معاملے کی جانچ) کا ڈرافٹ تیار کر رہے تھے۔ جانچ کے عمل میں ہوئی تاخیر یا لاپرواہی کو چھپانے کے لیے انہوں نے ایک بڑا خطرہ مول لے لیا۔ اے ایس آئی راجپوت نے مرگ جانچ متعلقہ مواد اور ڈرافٹ پر ایڈیشنل ایس پی ڈاکٹر سنجیو اوئیکے کے فرضی دستخط خود ہی کر دیے۔ ضابطے کے مطابق اس فائل کو اے ایس پی کے معائنے کے بعد ہی آگے بڑھنا تھا، لیکن راجپوت نے سیدھے اسے ایف ایس ایل ( فارنسک سائنس لیب) بھیج دیا۔ جعلسازی کا خلاصہ تب ہوا جب ایف ایس ایل افسر کو ڈرافٹ پر کیے گئے ایڈیشنل ایس پی کے دستخطوں پر شک ہوا۔ انہوں نے فوراً اس کی تصدیق کے لیے اے ایس پی ڈاکٹر سنجیو اوئیکے سے رابطہ کیا۔ جب اے ایس پی نے فائل واپس منگوا کر دیکھی، تو ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی، ان کے عہدے کا استعمال کر کے کسی اور نے دستخط کیے تھے۔ اے ایس پی کی شکایت کی بنیاد پر محکمانہ انکوائری شروع کی گئی۔ جانچ میں قصوروار پائے جانے پر ڈی آئی جی ششیندر چوہان نے تقریباً 2 ماہ پہلے اے ایس آئی راجپوت کی ملازمت ختم کرنے کے حکم جاری کر دیے تھے۔
نوکری جانے کے بعد رام جی سنگھ راجپوت نے آئی جی ہمانی کھنا کے سامنے اپیل دائر کی۔ آئی جی نے معاملے کی سنگینی اور انسانی پہلووں پر ہمدردی کے ساتھ غور کیا۔ انہوں نے برخاستگی کے حکم کو تو رد کر دیا، لیکن نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے لیے ایک سخت سزا مقرر کی۔ ساگر پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس سہوال کا کہنا ہے کہ فرضی دستخط معاملے میں اے ایس آئی رام جی سنگھ کو ڈی آئی جی صاحب کے ذریعے برخاست کیا گیا تھا، آئی جی ساگر نے راجپوت کو ملازمت میں بحال تو کر دیا، لیکن انہیں اے ایس آئی کے عہدے سے ڈیموٹ کر کے کانسٹبل بنا دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن