جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسیز کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر د ستخط کیے
نئی دہلی،14جنوری(ہ س)۔جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسیس کے درمیان آج ایک مفاہمت نامے دستخط ہوا۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر راجیش کمار،ایکزیکیٹیو ڈائریکٹر،ایس پی وائی ایم نے مفاہمت نامے
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسیز کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر د ستخط کیے


نئی دہلی،14جنوری(ہ س)۔جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسیس کے درمیان آج ایک مفاہمت نامے دستخط ہوا۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر راجیش کمار،ایکزیکیٹیو ڈائریکٹر،ایس پی وائی ایم نے مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔دماغی صحت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اور سکھ دیب ساہا معاملہ (پچیس جولائی دوہزار پچیس) میں عدالت عظمی کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے یونیورسٹی میں مینٹل ہیلتھ اینڈ ویلنیس سیل(ایم ایچ ڈبلیو سی) کا قائم کیا گیا ہے۔اس سیل کے ذمے’طلبہ‘کی دماغی صحت پالیسی دوہزار پچیس کو آسان بنانے اور لاگو کرنا ہے اور وزارت تعلیم،یوجی سی اور عدالت عظمی وغیرہ کی مختلف ہدایات اور مشوروں کی تعمیل کو یقینی بنانا، دماغی صحت سے متعلق سرکاری و غیر سرکاری اقدامات کے ساتھ معاملہ کرنا مختلف شعبہ جات اور مراکز کو ہدایات اور پیشہ ورانہ نگرانی فراہم کرنا،کیمپس میں دماغی صحت سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی اور ان میں ربط پیدا کرنا اور کیمپس میں دماغی صحت سے متعلق سال پر چلنے والی سرگرمیوں کو سالانہ شیڈول تیار کرنا اور اس مقصد کے حصول کے لیے آئی قیو اے سی کے ساتھ مشترکہ طورپر انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو کا ریکارڈ رکھنا۔مینٹل ہیلتھ اور ویلنیس سیل کے چیئر پرسن پروفیسر زبیر مینائی نے پروگرام کا تعارف پیش کیا جس میں انہوں نے بتایاکہ دوہزار پچیس کے تعلیمی میلہ میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران اس پروگرام اور ساجھیداری کی کیسے بنیاد پڑی تھی۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حاضرین کا خیر مقدم کیا اور اس حقیقت پر زور دیاکہ مفاہمت نامے پر دستخط صرف شروعات ہے جس کے بارے میں یقین ہے کہ یہ انتہائی تعمیری پروگرام ثابت ہوگا۔نیز انہوں نے اس طرح کے اقدام کی ضرورت کو اجاگر کیا جہاں تقریباً بائیس ہزار ریگولر اور تیئس ہزار فاصلاتی وضع میں اور اسکول میں سات ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں جس میں فیکلٹی اور اسٹاف شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے سیل کے اراکین، چیئر پرسن پروفیسر زبیر مینائی، پروفیسر ساریکا شرما،پروفیسر ثمینہ بانو، ڈاکٹر فیض اللہ خان، ڈاکٹر صبا ایم بشیر اور ڈاکٹر ارشاد نقوی کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیاڈاکٹر راجیش کمار نے پروگرام میں موجود اراکین کا تعارف پیش کیا۔ ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر نمیش دیسائی جنہیں سب اسٹینس ابیوز کا گہرا تجربہ ہے، اسی سلسلے کے عالمی صحت تنظیم سے وابستہ تکنیکی اہل کارجناب گیری ریڈ؛اور جناب کے نرائن جو پہلے وزارت ریلوے نیز سماجی انصاف اور بااختیاری کی وزارت سے وابستہ رہے ہیں۔ساتھی معلمین اور ساتھی کونسلرزکی تربیت پر ز وردیا گیا۔اس مفاہمت نامے کا مقصد جامعہ اور سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسیس کے درمیان کاروباری رشتے کے دائرے کی توسیع و استحکام ہے اور باہمی اتفاق رائے والے امور میں معلومات،سہولیات،ڈھانچہ اور تحقیق کو ساجھا کرنے کے ساتھ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں اشتراک قائم کرنا ہے۔یہ مفاہمت نامہ دستخط کے دن سے نافذ العمل ہے اور پانچ برسوں تک جاری رہے گا اس کے بعد سرگرمیوں کے جائزے اور باہمی دلچسپی کی صورت میں اس وقت تک توسیع کی جاسکتی ہے جب تک کوئی ایک فریق یا دونوں کی جانب سے اسے ختم کرنے اور فریقین کے درمیان رشتے میں ترمیم کے لیے کو ئی خاص اطلاع نامہ نہیں دیا جاتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande