
واشنگٹن،14جنوری(ہ س)۔ایران کی حکومت نے منگل کے روز امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ فوجی مداخلت کا بہانہ بنا تلاش کر رہا ہے۔ وسیع مظاہروں پر مہلک کریک ڈاو¿ن کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’سخت کارروائی‘کی دھمکی کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔ایران کے بارے میں امریکی تصورات اور پالیسی کی بنیاد حکومت کی تبدیلی ہے اور پابندیاں، دھمکیاں، خودساختہ اور مصنوعی بدامنی اور افراتفری فوجی مداخلت کا بہانہ بنانے کے طریقہ کار کے طور پر کام دیتی ہیں، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے ایکس پر پوسٹ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ واشنگٹن کی ’پلے بک‘ دوبارہ ناکام ہو جائے گی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ اگر ایران میں حکام نے عوامی بغاوت کے خلاف کریک ڈاو¿ن میں لوگوں کو پھانسی پر لٹکانا شروع کر دیا تو امریکہ سخت ردِ عمل کا اظہار کرے گا۔
ممکنہ طور پر بدھ کو پھانسیوں کا عمل شروع ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم بہت سخت کارروائی کریں گے۔وہ ہزاروں لوگوں کو مار رہے ہیں -- اور اب یہ پھانسی والی بات سامنے آ گئی ہے۔ ہم دیکھیں گے یہ کیسے ہوتا ہے، ٹرمپ نے آن لائن جاری کردہ ایک ویڈیو کلپ میں کہا۔یہ انٹرویو اس وقت ہوا جب ٹرمپ شمالی امریکی ریاست مشی گن میں ایک مینوفیکچرنگ پلانٹ کے دورے پر تھے اور انہیں معیشت پر تقریر کرنا تھی۔اپنی تقریر میں ٹرمپ نے اپنے اس پیغام کا اعادہ کیا جو پہلے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا تھا کہ ایرانی مظاہرین کے لیے مدد بھیجی جا رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات واضح نہیں تھی کہ ایران میں ہلاکتوں کی اصل تعداد کتنی تھی۔میں تعداد کے بارے میں سنتا ہوں - دیکھیں، ایک ہی موت بہت زیادہ ہے - لیکن پہلے پتا چلتا ہے کہ تعداد بہت کم ہے اور پھر یہ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan