
برسلز،14جنوری(ہ س)۔یورپی یونین کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کو بتایا کہ ملک گیر احتجاج پر ایران کے ردِ عمل پر یورپی یونین نے برسلز میں ایران کے سفیر کو طلب کر لیا۔ یورپی یونین کی سربراہ ارزلا فان ڈیر لاین نے منگل کے اوائل میں کہا تھا کہ حکومتی کریک ڈاو¿ن میں ہلاک اور زخمی ہونے والے لوگوں کی ’خوفناک‘ تعداد پر یورپی بلاک ایران پر مزید پابندیوں کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ’تیزی سے‘ کام کر رہا ہے۔ایران میں حکام نے کہا کہ وہ حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار کردہ بعض افراد کے خلاف سزائے موت کے الزامات عائد کریں گے اور یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ مظاہروں کے دوران گرفتار کردہ ایک شخص کو پہلے ہی عنقریب سزائے موت کا خدشہ ہے۔
منگل کے روز سرکاری ٹیلی ویژن نے تہران کے پراسیکیوٹر دفتر کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ایک غیر متعینہ تعداد پر ’محاربہ‘ یا’خدا کے خلاف جنگ‘ کا الزام عائد کیا جائے گا۔ یہ ایک شرعی قانون کی اصطلاح ہے جس کے لیے ایران میں سزائے موت مقرر ہے اور ماضی میں سزائے موت کے مقدمات میں اس کا بہت زیادہ استعمال ہوتا رہا ہے۔اس نے کہا، ’کئی فسادیوں کو جن کے خلاف الزامات محاربہ سے مطابقت رکھتے ہیں، جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan