
نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔
پٹیالہ ہاو¿س کورٹ کے خصوصی جج چندر جیت سنگھ نے دختران ملت کی لیڈر آسیہ اندرابی اور اس کے دو ساتھیوں کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے۔
عدالت نے آسیہ اندرابی کے علاوہ ان کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو بھی مجرم قرار دیا۔ عدالت نے تینوں کو تعزیرات ہند کی دفعہ 120B، 121، 121A، 124A، 153A، 153B، اور 505 کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 18، 20، اور 39 کے تحت مجرم قرار دیا۔ ان کے خلاف اپریل 2020 میں جموں و کشمیر میں بغاوت اور نفرت انگیز تقاریر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس سے قبل اپریل 2018 میں ان کے اور ان کی تنظیم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ دختران ملت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کے تحت ایک ممنوعہ تنظیم ہے۔
عدالت نے 6 دسمبر 2018 کو تینوں ملزمین کے خلاف دائر چارج شیٹ کا نوٹس لیا۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ تینوں غیر ملکی امداد کے لیے مہم چلا رہے تھے اور ان کا مقصد ملک کی خودمختاری اور اتحاد کو نقصان پہنچانا تھا۔ دختران ملت نے 23 مارچ 2018 کو یوم پاکستان منایا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آسیہ اندرابی نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند کے تمام مسلمان اپنے مذہب، عقیدے اور پیغمبر اسلام سے محبت کی بنیاد پر پاکستانی ہیں۔ تقریب کے دوران پاکستان کا قومی ترانہ بھی گایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ