دہلی دھماکہ کیس: ڈاکٹر شاہین سمیت پانچ ملزمین تین دن کے لیے این آئی اے کی تحویل میں
نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے لال قلعہ دھماکے کے پانچ ملزمان کو تین دن کے لیے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں دے دیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چاندنا نے ڈاکٹر شاہین سعید کے ساتھ مفتی عرفان
دہلی دھماکہ کیس: ڈاکٹر شاہین سمیت پانچ ملزمین تین دن کے لیے این آئی اے کی تحویل میں


نئی دہلی، 14 جنوری (ہ س)۔

دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے لال قلعہ دھماکے کے پانچ ملزمان کو تین دن کے لیے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں دے دیا ہے۔

پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چاندنا نے ڈاکٹر شاہین سعید کے ساتھ مفتی عرفان احمد، ظہیر بلال وانی عرف دانش، ڈاکٹر عادل احمد، اور ڈاکٹر مزمل شکیل کو این آئی اے کی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔ 18 نومبر کو عدالت نے ظہیر بلال وانی عرف دانش کو این آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ این آئی اے نے دانش کو سری نگر سے گرفتار کیاتھا۔

این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ دانش نے عمر النبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پولیٹیکل سائنس میں گریجویٹ دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا۔ اکتوبر 2024 میں، وہ کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر راضی ہوا، جہاں سے اسے ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی میں رہنے کے لیے لے جایا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande