
لندن،14جنوری(ہ س)۔ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے اس امن کونسل میں شامل ہونے کا امکان ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں صورتحال کو منظم کرنے کے لیے تشکیل دینے جا رہے ہیں۔برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ غزہ کے لیے امن کونسل کی سربراہی کریں گے جو عارضی طور پر غزہ پٹی کا انتظام سنبھالے گی اور تعمیر نو سے متعلق فیصلے کرے گی۔ اس کونسل میں عالمی رہنما شامل ہوں گے جو حماس کو غیر مسلح کرنے، ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ رواں ہفتے کونسل کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل سنڈے ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر کیئر اسٹارمر کو شمولیت کی دعوت دی تھی۔ایک سینئر برطانوی عہدیدار کے مطابق متوقع کونسل کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر منعقد ہو سکتا ہے۔اتوار کے روز اس گروپ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر دنیا کے اہم ترین ممالک کے نمایاں رہنماو¿ں پر مشتمل ہوگا۔ ہم اہم رہنماو¿ں اور اہم ممالک کو یکجا کر رہے ہیں اور یہی غزہ کے لیے امن کونسل ہے۔وائٹ ہاو¿س نے وضاحت کی کہ یہ کونسل غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کرے گی اور مالی وسائل کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں مستقبل کی حکومت پر مسلسل نگرانی اور کنٹرول بھی فراہم کرے گی جس میں اہل فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں گے۔
اس کونسل میں جرمنی، اٹلی، مصر، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کے رہنما شامل ہوں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ابھی کیئر اسٹارمر کو باضابطہ دعوت نہیں دی گئی کیونکہ بات چیت جاری ہے اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔وائٹ ہاو¿س نے پچھلے سال ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم سر ٹونی بلیئر بھی اس کونسل میں شامل ہوں گے تاہم بعد ازاں ان کی شمولیت غیر یقینی ہو گئی کیونکہ مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک نے ان کی شمولیت پر اعتراض کیا تھا جنہوں نے عراق پر امریکی حملے میں برطانوی افواج کی شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔کیئر اسٹارمر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے ہیں جس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے برطانیہ پر عائد کیے گئے محصولات کی کم ترین سطح کو یقینی بنایا گیا۔ اگرچہ گذشتہ برس برطانیہ کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر دونوں کے درمیان اختلاف رہا مگر اس سے ان کے تعلقات متاثر نہیں ہوئے۔اسٹارمر کے ایک اتحادی کے مطابق ان کی کوششیں اس بات میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں کہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے یوکرین کو روس کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں ابتدائی سکیورٹی ضمانتیں دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کیئر نہ ہوتے تو یہ ممکن نہ ہو پاتا۔برطانوی وزیر اعظم نے پیر کی شام لیبر پارٹی کے ارکان سے خطاب میں خارجہ پالیسی پر اپنی توجہ کا دفاع کیا جب ان پر بعض حلقوں نے بیرون ملک دوروں کی کثرت کے باعث اندرونی ترجیحات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ مہنگائی کے بحران کا حل تنہائی اختیار کرنے میں نہیں۔ ایک بات اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جو اس دنیا سے کہیں مختلف ہے جس میں ہم پلے بڑھے۔ ایسے غیر یقینی اور متغیر حالات میں ضروری ہے کہ آپ میدان میں موجود ہوں اور ان مسائل سے نمٹیں جو عوام کے لیے اہم ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan