
ممبئی، 13 جنوری (ہ س)۔مہاراشٹڑ کانگریس کی صدر ایم پی ورشا گائیکواڈ نے الزام لگایا ہے کہ ڈومبیولی کے تکارام نگر میں بی جے پی ووٹروں کو نقد رقم تقسیم کر کے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ معاملہ پینل نمبر 29 سے جڑا بتایا گیا ہے، جہاں ووٹنگ انتہائی قریب قریب رہنے کی توقع ہے۔ورشا گائیکواڈ نے ایکس پر لکھا کہ مبینہ واقعہ جمہوریت کے منافی ہے اور اسی بنیاد پر بی جے پی قیادت نتائج سے قبل کامیابی کے دعوے کر رہی ہے۔ الزامات کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں گھروں تک بی جے پی کے پرچار مواد کے ساتھ لفافے پہنچائے جانے کا منظر دکھایا گیا ہے، جن میں دو سے تین ہزار کی رقم ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔شیوسینا امیدوار نِتِن پاٹل اور آزاد امیدوار راوی پاٹل نے بتایا کہ انہیں اتوار کو اطلاع ملی تھی کہ دشرَتھ بھون میں بی جے پی کارکن ووٹروں میں رقم تقسیم کر رہے ہیں۔ نِتِن پاٹل کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر 15 سے 20 لفافے برآمد ہوئے، ہر ایک میں تین ہزار موجود تھے، جبکہ کل رقم 70 سے 80 ہزار کے درمیان بتائی گئی۔ادھر پینل 29 پر شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان براہِ راست مقابلہ جاری ہے اور کسی مقامی اتحاد کے بغیر دونوں جماعتیں میدان میں ہیں، جس کے باعث سیاسی گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ بی جے پی کلیان ضلع صدر نندو پرب نے تمام الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شیوسینا کارکنوں نے سازش کے تحت رقم بی جے پی کارکنوں کے ہاتھوں میں تھما کر تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ کلیان–ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کے 122 وارڈز ہیں اور اتحاد کے تحت بی جے پی نے شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے دو امیدواروں کو بھی میدان میں اتارا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے